15/06/2026
حضرت مولانا مفتی محمد ندیم صاحب دامت برکاتہم نے علمی مناظروں میں جس وقار، متانت اور استدلال کے ساتھ اپنے موقف کو پیش فرمایا وہ اہلِ علم کے لیے ایک روشن مثال ہے۔
اسی طرح حضرت اپنے تمام شاگردوں کو بھی ہمیشہ یہی سنہری سبق دیتے آئے ہیں ۔ جواب ہمیشہ دلیل کے ساتھ دو، نہ کہ غصے، طعن یا ختم کی دھمکی کے ساتھ ۔ حضرت کا ماننا ہے کہ علمی میدان میں لاجواب کرنے کا نام "بحث ختم" کہہ دینا نہیں، بلکہ مخالف کو اپنی دلیل کی قوت سے مطمئن کرنا ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ اسلافِ امت نے ہمیشہ تلوار کے جواب میں قلم، اور طعن و تشنیع کے جواب میں حلم و حکمت کو اختیار کیا۔ حضرت کے اندازِ گفتگو سے یہ درس ملتا ہے کہ مخالفت کا بہترین جواب گالی یا سختی نہیں، بلکہ علم کی روشنی اور اخلاق کی خوشبو ہے۔ جب دلیل مضبوط ہو اور لہجہ نرم ہو تو بڑے سے بڑا معاند بھی سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
علم کا تقاضا یہی ہے کہ اختلاف کو دشمنی نہ بنایا جائے۔ ہمارا مقصد کسی کو نیچا دکھانا نہیں، بلکہ حق کو بلند کرنا ہے۔ اور حق تبھی بلند ہوتا ہے جب اسے اٹھانے والے ہاتھ اور زبان دونوں پاکیزہ ہوں۔
ہم دل کی گہرائیوں سے دعا گو ہیں کہ اللہ رب العزت حضرت کی عمر، علم، عمل اور قلم میں مزید برکت عطا فرمائے، اور ہمیں بھی یہ توفیق بخشے کہ ہم ہر محاذ پر اخلاقِ نبوی ﷺ کا عملی نمونہ پیش کری۔
"اُدْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ ۖ وَجَادِلْهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ"
اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور بہترین نصیحت کے ساتھ بلاؤ، اور ان سے ایسے طریقے سے بحث کرو جو سب سے اچھا ہو۔
کیونکہ دلیلیں عقل کو قائل کرتی ہیں، مگر اخلاق دلوں کو فتح کرتے ہیں۔ اور ہماری دعوت کا اصل ہدف دلوں کی تسخیر ہی ہے۔
---
ایڈمین عبداللہ محمودی
۔