09/10/2024
چشمہ اچوزئى کا واقعہ....اصل حقائق کيا؟؟؟
چشمہ تاريخى لحاظ سے يہاں کے آبائى اقوام (کاسی ، کاکڑ)کے ملکيت رہى ہے جہاں بعد ميں وقتا فوقتاً خريد و فروخت کے ساتھ ديگر اقوام بھى آباد ہوتے رہے. چشمہ کے بيشتر زمينيں کاسى قوم اور کاکڑ قوم کى ملکيت ہے. چشمہ کے آبائى لوکل لوگ مزاجاً انتہائى پرامن اور خاکسار لوگ ہے انکى بہترين مثال يہى ہےکہ چشمہ کے دامان ميں ان کے جائيدادى زمينوں پر تيس سے زائد سال تک خلجى قوم کے لوگ بغير کوئى رقم ديےآباد رہے مگر انہوں نے کچھ نا کہا اور آج تک رہ رہے ہیں. شرافت کا يہ عالم ہے کہ جنہيں ان کاسى قوم نے اپنے زمينوں پر آباد رہنے ديا آج وہ خود کو انہى زمينوں کا مالک سمجھنے لگے.
چمشہ کے دامان ميں يہى تين دہائيوں سے زائد عرصے سے افغان مہاجرین جس مين بيشتر کا تعلق خلجى قوم سے ہے يہاں آباد ہے. يہ زمین چونکہ دامان تکتو ميں ہے اور اصل چشمہ سے کچھ فاصلے پر اسى وجہ سے چشمہ کے لوگوں نے انہيں يہاں آباد ہونے ديا اور يہ لوگ بھى خوشى خوشى رہنے لگے اور ان کے تعداد بھى دن بہ دن بڑھتے رہى. معاشى لحاظ سے بيشتر لوگ مڈل لوئر کلاس ہے جن کى معاشى حالت بہتر ہونے لگى تو ساتھ ساتھ گھروں کى حالت بھى بہتر کرتے گئے. جيسے جيسے تعداد بڑھتى گئى تو قوميت کے نام پر اتحاد بنایا اور موقع غنيمت ديکھتے ہوئے مالک ہونے کا دعوي کيا. کیونکہ ان کے نزديک ہمارى تعداد پہلے سے کہى تعداد ہے اور خلجى کاڑد استعمال کرنے سے ہميں ديگر جگہوں سے بھى خوب داد رسى مليگى جو حقيقتا ملى بھى. آباد خلجى قوم حق خوداريت کى ايک يہى وجہ بتاتے رہے کہ ہم سالوں سے يہاں آباد ہے اسى وجہ سے ہم يہاں کے مالک ہے. بھلا ايسى زمین جس کے مالک موجود ہوں اسے محض آباد کرنے سے کسى کى کيسے ہو جاتى ہے؟؟؟اگر آباد کرنے سے حق خوداريت ملتى تو تمام تر زمينيں صاحب استعداد لوگوں کى ہوتى.
اب اس معاملے ميں اصل مالکان نے جب سوچھا کہ اتنى بڑى آبادى کو اپنے زمينوں سے خالى کرانا قطعا آسان نہيں اور بھلا ادارے ہمارے مفادات کے لئے خود کو کیونکر يہاں دھکيلے حتى کہ کورٹ کے فيصلے کے ہوتے ہوئے يہ زمين خالى رہنے ميں ناکام ہوئے. نا صرف يہ بلکہ مالکان کے جانب سے بار بار نوٹسز بھيجے گئے اور مشران کو بھيجا گيا مگر يہ قبضہ گير اپنے قبضے پر بضد رہيں اور کاسى و کاکڑ قوم سے بھيجے گئے وفد کو بے عزت طريقے سے رخصت کيا گيا.خود کو بار بار ناکام ديکھنے کے بعد مالکان نے يہ قبضہ چھڑانے کے لئے بڑے مگر مچھوں(بڑے انويسٹر کمپنيوں) کو ساتھ شامل کيا جن کا سہارا لے کر وہ اپنى زمينيں خالى کرالے اور انہى مگر مچھوں کے بدولت يہ تمام تر کاروائى ہو رہى ہے. بڑے مگر مچھ کون ہے ؟ کيوں شامل کيے گئے؟ کيا آپ کے خيال ميں اگر اس معاملے ميں بڑے مگر مچھ شامل نہيں ہوتے تو اتنے بڑے پیمانے پر کاروائى ہوتى؟ کيا اگر ان بڑے مگر مچھوں کو شامل نہيں کيا جاتا تو کا سے و کاکڑ قوم کو ان کا حق ملتا؟
جيسا کہ آپ اب جان چکے ہونگے کہ اصل معاملہ کيا ہے. يہ زميں جو کہى سو ايکڑ پر محيط ہے اصل ميں يہاں کے کاکڑ اور کاسى قوم کى ملکيت ہے. بجائے انہيں يہ زمين مکمل طور پر ملتى مگر انہوں نے مجبوراََ اس زمين کو بڑے کمپنى کو کم داموں بيچا اور اپنے اچھائى کا صلہ انہيں اربوں روپے کے نقصان ميں ملا. اب جو لوگ قوميت کا لبادہ اوڑھے اپنى سياست چمکا رہے ہیں وہ کن لوگوں کے ساتھ کھڑے ہيں؟ بھلا خود کو ايک عالمى صحافى کہنے والا جمال ترکئى اور خلجى قبائل کا سربراہ لالا يوسف خلجى قبضہ گير مافيا کے ساتھ کيونکر کھڑا ہے؟ آپ کے حق و سچ کى جھنڈياں محض قومى اشتراکيت کے طرف کيوں جھکى ہوئى ہے؟ کيا کاسى قوم کو ان کے اچھائى کا يہى صلہ ديا جا رہا ہے؟ اگر آپ واقعى قومى وحدت کے خواہاں اور دعويدار ہے تو قبضہ کرنے والوں کے طرف دار کيوں ہيں؟
اب احتجاج ميں انتہائى ڈھٹائى اور بيغرتى سے قرآنى و شرعى روح سے ان قبضہ گير کو حق پر ہونا ثابت کيا جا رہا ہے. مجھے بتائيں کہ کس شريعت اور کس قانون اور اسلام ميں کسى کا حق ہتھیانے سے آپ مظلوم اور مانگنے والا ظالم ہو جاتا ہے؟ احتجاج ميں يہى تاثر ديا جا رہا ہے کہ يہ دو قوموں کے درميان زمينى تنازعہ ہے اور سرکار اس سے دور رہيں. مگر حقيقتا يہ مالکوں اور قبضہ گير درميان زمينى تنازعہ جو قطعا قومى نہيں. يہ نام نہاد مشران اسے قومى تنازعے کا رنگ دے کر مارا مارى کرنے کے خواہاں ہے تاکہ ان کے مشرى قائم رہ سکيں اور اسى بنياد پر پرتعيش تقارير کرتے نظر آتے ہيں. اگر يہ کريک ڈاون قومى بنيادوں پر ہوتا تو بے جا جانيں جاتى اور زیادہ نقصان ہوتا مگر اس معاملے کر سرکارى سطح پر کروانا انتہائى عقلمندى ہے کیونکہ اب شرپسندوں کا بازار گرم نہيں ہو سکا.
کيا ہى اچھا ہوتا کہ خلجى قوم اپنے سربراہان کے سربراہى ميں رضاکارانہ طور پر کاسى قوم کو ان کا حق حوالہ کرتے ہيں اور ان کا شکريہ ادا کرتے کہ ہم تين سو يا پانچ سو گھرانے آپ کے مشکور ہے کہ ہم آپ کى زمينوں پر رہے سہے اور آج جب آپ زمين خالى کرنے کو کہہ رہے ہیں تو ہم رضامندى سے جا رہے ہیں مگر آپ نے سبھى کچھ الٹا کيا. اگر آپ کا رويہ دھمکى آميز اور مالکانہ نا ہوتا تو يہى کاسى قوم شايد بڑے مگر مچھوں کو حصہ دار بنانے آپ کو کم داموں يہ زمین ديتے مگر قومى تکبر نے سب کچھ برباد کر ديا. اب آپ کے پاس بے سروسامان خاندان کو سہارا دينے کے لئے لالا يوسف اور صمد کے جذباتى تقارير رہ گئے ہيں.