08/03/2025
*احباب ملاحظہ فرمائیں*
ایک سال دو ماہ کے عرصے میں پی بی 39 کے سلیکٹیڈ حاکم کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی ہے۔ صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ، جو پی بی 39 کے صاحبِ تخت ہیں، نے ایک سال دو ماہ میں علاقے کے لیے کوئی قابلِ ذکر کام نہیں کیا۔ علاقے میں نہ امن ہے، نہ پانی، نہ گیس، نہ بجلی، نہ پکے روڈ، اور نہ ہی صفائی کا کوئی انتظام ہے۔ بلکہ، علاقہ گندگی کا ڈھیر بن چکا ہے۔
اس کے باوجود، آج جب میں پہلے سٹاف سے گزر رہا تھا، تو صاحبِ تخت کی ترقیاتی کام کو دیکھا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے میں کوئی خواب دیکھ رہا ہوں، کیونکہ الیکشن کے بعد سے میں نے علاقے میں کوئی کام ہوتے نہیں دیکھا تھا۔ جب میں نے دوبارہ غور سے دیکھا، تو معلوم ہوا کہ صاحبِ تخت کا کام سیوریج لائن پر جاری ہے، جو کہ علاقے کی ایک اہم ضرورت ہے۔ لیکن اس سیوریج لائن سے علاقے کی ترقی کی کوئی امید نہیں ہے، کیونکہ اس لائن سے علاقے کی گندگی نہیں، بلکہ ایف سی کی گندگی گزرے گی۔
صفائی نصف ایمان ہے، لیکن ہمارے علاقے میں صفائی نام کی کوئی چیز موجود ہی نہیں ہے۔ ہم اہلیانِ کوتوال بالائی حکام سے اپیل کرتے ہیں کہ کوتوال کی سیوریج لائن اکثر بارشوں میں چھوٹی نالیوں کی وجہ سے بہہ جاتی ہے، جس کی وجہ سے گندا پانی لوگوں کے گھروں میں داخل ہو جاتا ہے۔ اب جب کہ پہلے سٹاف کی نئی سیوریج لائن بنائی جا رہی ہے، جس میں پہلے سٹاف اور ایف سی کواٹروں کا پانی بھی کوتوال سے گزرے گا، تو کوتوال کی چھوٹی اور ٹوٹی پھوٹی نالیوں کا یہ بوجھ برداشت نہیں کر پائیں گی۔ لہٰذا، ہم درخواست کرتے ہیں کہ کوتوال کی نالیوں کو بڑا کیا جائے یا نئی سیوریج لائن کا پانی کوتوال کی طرف نہ چھوڑا جائے۔
بخت محمد کاکڑ کا یہ ترقیاتی کام عوام کے لیے نہیں، بلکہ ان لوگوں کے لیے ہے جنہوں نے انہیں صاحبِ تخت بنایا ہے۔ کوتوال کے عوام ایک بار پھر اس کی مذمت کرتے ہیں اور بالائی حکام سے اپیل کرتے ہیں کہ کوتوال کے عوام کچرے اور نالیوں کی بدبو سے تنگ آ چکے ہیں۔ لہٰذا، ہماری گزارش ہے کہ نالیوں کی صفائی کے ساتھ ساتھ کچرے کے ڈھیروں کو بھی اٹھایا جائے۔
حافظ عابد اللہ حنفی
رضاکار علاقہ