09/06/2026
نومبر
یونیورسٹی کا آخری ہفتہ تھا۔ اگلے ہفتے پیپرز شروع ہونے والے تھے۔ سردی کی نمی ہوا میں تیر رہی تھی، اور ببول کا درخت اپنے پتے ایک ایک کر کے زمین کے حوالے کر رہا تھا۔ ہر گرتا پتا مجھے کسی بے آواز داستان کا خاتمہ لگتا تھا۔
میں نے دوپہر کی کلاس چھوڑ دی تھی۔ دھوپ سے بچنے کا بہانہ نہیں تھا، بلکہ تنہائی سے ملنے کا بہانہ تھا۔ درخت کے نیچے بیٹھا، میں لوگوں کو دیکھ رہا تھا۔ میرے بالکل سامنے دو انسان مہرِ محبت کی داستان رقم کر رہے تھے۔ لڑکی ہزارہ تھی ۔ یہ اس کے کدوخال سے صاف ظاہر تھا۔ لڑکا نامعلوم۔ مگر وہ مہر کا دعویدار تھا۔
میرے قریب ہی ایک دوست نے دوسرے سے کہا، "ان کا جوڑی کیسے بنا؟"
جواب ملا، "جوڑی تو اوپر بنتی ہے۔ یقیناً ان کا بھی کوئی حساب ہوگا۔"
پھر وہ خود ہی بولا، "اس پیاسی زمین میں جہاں تھوڑی سی مہرِ محبت مل جائے، لے لینی چاہیے۔"
دوسری طرف دو اور انسان خاموشی سے ایک دوسرے کو تک رہے تھے۔ ان کے درمیان فاصلہ بہت تھا، مگر نظروں کا پل پڑا ہوا تھا جیسے برسوں بعد ملے ہوں۔ لڑکی نے سرخ کپڑے پہنے تھے، اور ہاتھ میں سرخ رومال تھا — گویا خون کے قطرے جما دیے ہوں۔ آدھے گھنٹے کی خاموشی کے بعد اسے کال آئی۔ اس نے وہ رومال لڑکے کے ہاتھ میں تھما دیا، اور بغیر ایک لفظ کہے چلی گئی۔
لڑکا ابھی بھی وہیں کھڑا تھا۔ اس نے رومال کو آنکھوں سے لگایا۔ اس کے آنسو رومال کو تر کر رہے تھے، مگر اس کے ہونٹوں پر کوئی لفظ نہیں تھا۔ خاموش آنسو ۔ جن کی زبان نہیں ہوتی، مگر پوری کتابیں لکھ ڈالتے ہیں۔
میں سوچنے لگا — انسان عجیب مخلوق ہے۔ اپنا درد بیان نہیں کر پاتا، اور دوسرے کا درد سمجھ کر بھی انجان بن جاتا ہے۔
یہاں کوئی داستان لکھ رہا ہے، تو کسی کی داستان ختم ہو رہی ہے۔ کوئی نیا باب کھولنا چاہتا ہے، تو اسے کوئی نہیں ملتا۔ اور کسی کا آخری باب لکھا جا چکا ہوتا ہے۔
اچانک ایک لڑکی کی تیز آواز نے خاموشی چیر دی۔ وہ ایک لڑکے کو برا بھلا کہہ رہی تھی۔ لڑکا بُت بنا کھڑا تھا۔
آخر وہ بولا، "بیبی، اس ماہ کچھ نہیں بچا۔ اگلے ماہ — انشاء اللہ۔"
مگر بیبی مان نہیں رہی تھی۔
میں نے سوچا ۔ یہ لڑکا غالباً ہاسٹل کا رہنے والا تھا۔ ہاسٹل والے عجیب زندگی جیتے ہیں۔ وہاں ہر کوئی غریب ہوتے ہوئے بھی امیر ہوتا ہے ۔دوستی کے معاملے میں۔ مگر کم بخت لڑکیاں ان امیروں کو راس نہیں آتیں۔ پھر وہی سوال اُبھرا ۔ کیوں ایک لڑکی کے لیے آدمی اپنے سب س