01/06/2025
خاوند و بیوی کی جنسی ضروریات کی پہچان اور ان کا احترام! -
شادی وہ آئینہ ہے جس میں انسان پہلی بار اپنی ذات کو مکمل دیکھتا ہے۔اس میں محض دو جسموں کا نہیں، دو نفوس، دو جذباتی کائناتوں،اور دو روحانی تسلسلوں کا ملاپ ہوتا ہے۔ مگر افسوس، کہ اکثر یہ آئینہ ٹوٹ جاتا ہے. اور ٹوٹتا بھی ہے وہاں، جہاں کوئی ایک اپنی جنسی فطرت کو دوسرے پر مسلط کرتا ہے یا دوسرا اس کی خاموش چیخوں کو سننے سے انکار کر دیتا ہے۔
اسلام نے ازدواجی تعلق کو صرف نکاح کے کاغذ پر نہیں چھوڑا، بلکہ اسے "لباس" کے استعارے سے بیان کیا. ایسا لباس جو انسان کو ڈھانپتا بھی ہے، سجاتا بھی ہے، اور سردی گرمی میں تحفظ بھی دیتا ہے۔ مگر آج یہی لباس بعض جوڑوں کے لیے قید، تکلیف، یا بے حس لمس بن چکا ہے۔
کیوں؟
کیونکہ ہم نے "جسمانی تعلق" کو صرف ایک وقتی ضرورت، مرد کی شدت، یا عورت کی شرم تک محدود کر دیا, اس کی روحانی اور نفسیاتی گہرائی کو سمجھا ہی نہیں۔
نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
"أكمل المؤمنين إيمانا أحسنهم خلقا، وخياركم خياركم لنسائهم" (ترمذی: 1162)
یعنی ایمان میں کامل وہ ہے جو اخلاق میں بہترین ہو، اور تم میں بہترین وہ ہے جو اپنی بیوی کے لیے بہترین ہو۔
اس حدیث کو نکاح کے خطبوں میں تو پڑھا جاتا ہے، مگر بستر پر اس کی روشنی مدھم ہو جاتی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ نکاح صرف معاہدہ ہے، جب کہ حقیقت میں یہ ایک ذمہ داری ہے. اور اس ذمہ داری کا سب سے نازک، خاموش، مگر اہم ترین پہلو جنسی ہم آہنگی ہے۔
شوہر کی فطرت میں طلب، تسلط اور جذبہ نسبتاً شدید ہوتا ہے، مگر عورت کی فطرت میں حیا، نرمی، اور تدریج ہے۔ ان دو متضاد لیکن ہم آہنگ فطرتوں کے درمیان اگر ایک ربط، ایک سمجھ بوجھ، اور ایک اعتدال نہ ہو، تو یہیں تعلق عزت کا نہیں، آزمائش کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
فقہا نے صراحت سے بیان کیا ہے کہ بیوی کا حق ہے کہ شوہر اس کی جنسی ضرورت پوری کرے۔
امام ابن حزم رحمہ اللہ المحلٰی میں لکھتے ہیں:
"فرض على الرجل ج**ع امرأته التي تزوجها يوفيها حقها في ذلك"
یعنی شوہر پر فرض ہے کہ وہ اپنی بیوی کی جنسی ضرورت پوری کرے اور اس کا حق ادا کرے۔
یہ بات اکثر مرد بھول جاتے ہیں، کہ عورت صرف ج**ع کی فاعل نہیں، بلکہ اس کی "تسکین" اور "تسلیم" دونوں ضروری ہیں۔
نبی اکرم ﷺ نے صاف ارشاد فرمایا کہ:
"مرد بیوی سے ایسا تعلق نہ رکھے جیسے جانور، بلکہ اس میں بوسہ، بات، اور محبت ہو"
"لا يقع أحدكم على امرأته كما تقع البهيمة، وليكن بينهما رسول." (الطبرانی، صحیح الجامع)
دوسری طرف، عورت کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ مرد کی جنسی طلب، صرف شہوت نہیں، بلکہ بعض اوقات اس کے لیے ذہنی سکون، جذباتی توازن، اور روحانی قرار کا ذریعہ ہوتی ہے۔
ماہرین نفسیات لکھتے ہیں کہ مرد جب "جنسی طور پر نظر انداز" ہوتا ہے، تو اس کا رویہ جارحانہ، غصہ ور، یا لا تعلق ہو جاتا ہے, وہ "محبت" کے اشارے کے بجائے "ردعمل" میں جیتا ہے۔
اسی طرح، عورت کو جب صرف جسم سمجھا جائے، اور اس کے جذبات، احساسات، یا طبیعت کا خیال نہ رکھا جائے، تو اس کی خود اعتمادی مجروح ہوتی ہے، وہ نفرت یا سرد مہری کا شکار ہو جاتی ہے۔ اور یہی دونوں محرکات، پھر طلاق، بے وفائی، یا ناپسندیدہ علیحدگی جیسے انجام تک لے جاتے ہیں۔
اسلام نے دونوں کو "ایک دوسرے کا لباس" قرار دیا، یعنی ایک دوسرے کے راز، کمزوریاں، ضروریات، اور خواہشات کو سمجھنے والا,
"هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَأَنتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ" (البقرۃ: 187) یعنی تم ان کا لباس ہو اور وہ تمہارا۔
اس تعلق کی کامیابی کا راز "سمجھنے" میں ہے, نہ صرف زبان کی بات، بلکہ بدن کی زبان، رویوں کی خاموشی، اور جذبوں کے پیچھے چھپے سچ کو محسوس کرنے میں۔
بیوی کا چپ رہنا، ہرگز رضا کی دلیل نہیں۔ اور شوہر کا زیادہ مانگنا، ہرگز بداخلاقی نہیں, جب تک دونوں کے درمیان احساس کا پل سلامت ہو۔
ہماری معاشرتی تربیت میں یہ سکھایا ہی نہیں گیا کہ "جنسی تعلق" بھی ادب، علم، اور محبت کا متقاضی ہوتا ہے۔ ہمیں یا تو حیاء کی آڑ میں چپ رہنے کی تربیت دی گئی، یا بے شرمی کی راہوں پر چلنے کی آزادی۔ اعتدال، جو سنت ہے، وہ کہیں کھو گیا۔
بیوی کو چاہیے کہ شوہر کی خاموشی، تنہائی، یا معمولی چڑچڑاہٹ کو محسوس کرے, ممکن ہے وہ جسمانی قربت کا طلبگار ہو، مگر لفظوں میں اظہار نہ کر پا رہا ہو۔
شوہر کو چاہیے کہ بیوی کے مزاج، تھکن، بیماری، یا نفسیاتی دباؤ کو سمجھے, ممکن ہے وہ اس لمحے میں ج**ع سے گریز کر رہی ہو، تو یہ اس کی توہین نہیں بلکہ فطرت ہے۔
اسی لیے نبی کریم ﷺ نے عورت کو بھی تاکید فرمائی:
"إذا دعا الرجل امرأته إلى فراشه فأبت فبات غضبان، لعنتها الملائكة حتى تصبح" (بخاری و مسلم)
’’اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو اپنے بستر پر بلائے اور وہ انکار کرے اور وہ رات غصے میں گزارے تو فرشتے صبح تک اس پر لعنت بھیجتے رہیں گے۔‘‘ (بخاری و مسلم)
لیکن ساتھ ہی فقہاء نے یہ بھی لکھا کہ اگر عورت کو عذر ہو, مثلاً بیماری، حیض، یا شدید تھکن, تو اس پر یہ وعید لاگو نہیں ہوتی۔
یعنی اسلام نے مرد کو "حقِ زوجیت" دیا، مگر عورت کو "عزتِ نفس" کا درجہ بھی دیا۔دونوں کی فطرت کا لحاظ رکھا۔
کامیاب ازدواجی زندگی کی بنیاد اس بات پر ہے کہ شوہر اور بیوی دونوں ایک دوسرے کی "ضرورت" کو "بوجھ" نہ سمجھیں، بلکہ اسے "محبت کا پیغام" جانیں۔
جنسی تعلق صرف ایک عمل نہیں, یہ محبت کا اظہار، اعتماد کی علامت، اور روحانی قربت کا ذریعہ ہوتا ہے۔ جب یہ تعلق جسم سے آگے روح، دل اور احترام تک جائے, تو پھر وہی نکاح جنت کی سیڑھی بن جاتا ہے۔
ورنہ وہی بستر, جہاں "محبت کا فرشتہ" اترتا ہے,"ناگواری کا شیطان" مسکرا کر بیٹھ جاتا ہے۔