03/03/2026
Save farmers, Save Pakistan!!
راولپنڈی "ذبیحہ ٹیسٹ": گوشت کی قیمتوں کا زمینی سچ اور لائیوسٹاک سیکٹر کا بحران
تحریر: شاکر عمر گجر (مرکزی صدر، ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن پاکستان)
پاکستان کی لائیوسٹاک انڈسٹری اس وقت تاریخ کے مشکل ترین دور سے گزر رہی ہے۔ ایک طرف فارمر مہنگے چارے اور بجلی کے بلوں سے پریشان ہے، تو دوسری طرف انتظامیہ زمینی حقائق سے نظریں چرا کر گوشت کے ایسے نرخ نامے (Price Lists) جاری کرتی ہے جو ناممکن العمل ہیں۔ اس تناظر میں حال ہی میں راولپنڈی میں اسسٹنٹ کمشنر، چیمبر آف کامرس، میڈیا اور عوام کی موجودگی میں ایک "پریکٹیکل ذبیحہ ٹیسٹ" کیا گیا، جس نے گوشت کی پیداواری لاگت کے تمام پردے چاک کر دیے ہیں۔
1. بیف (بھینس کا گوشت): حساب کتاب کا آئینہ
اس تجربے کے دوران انتظامیہ کی موجودگی میں منڈی سے ایک بھینس خریدی گئی جس کی تفصیل درج ذیل ہے:
* خریداری کی قیمت: 2,10,000 روپے
* ٹیکس و دیگر اخراجات: 12,000 روپے (مجموعی قیمت: 2,22,000 روپے)
* خالص حاصل شدہ گوشت: 178 کلو 700 گرام
* بیف کی فی کلو لاگت: 1,176 روپے
اہم نکتہ: یہ 1,176 روپے صرف گوشت کی وہ قیمت ہے جو جانور خرید کر ذبح کرنے تک آئی ہے۔ اس میں قصاب کا منافع، دکان کا کرایہ، بجلی، عملہ اور فریزر کے اخراجات شامل نہیں ہیں۔ اگر یہ اخراجات شامل کیے جائیں تو بیف کی جائز قیمت 1,350 روپے سے کم کسی صورت ممکن نہیں۔
2. مٹن (بکرے کا گوشت): ناقابلِ یقین حقائق
اسی طرح مٹن کی لاگت کا تعین کرنے کے لیے ایک بکرا خریدا گیا:
* خریداری کی قیمت: 27,000 روپے
* ٹیکس و مارکیٹ فیس: 2,120 روپے (مجموعی قیمت: 29,120 روپے)
* خالص حاصل شدہ گوشت: 9 کلو 500 گرام
* مٹن کی فی کلو لاگت: 2,960 روپے
اہم نکتہ: جب مٹن کی صرف پیداواری لاگت ہی 2,960 روپے ہے، تو انتظامیہ کی جانب سے اس سے کم ریٹ مقرر کرنا قصاب کو خودکشی یا ملاوٹ پر مجبور کرنے کے مترادف ہے۔ تمام اخراجات کے بعد مٹن کی حقیقی قیمت 3,400 روپے فی کلو بنتی ہے۔
انتظامیہ اور عوام کے لیے لمحہ فکریہ
راولپنڈی کا یہ تجربہ ثابت کرتا ہے کہ قصاب مہنگائی کا ذمہ دار نہیں ہے، بلکہ وہ خود اس سسٹم کا شکار ہے۔ جب سرکاری افسران کی موجودگی میں گوشت کی لاگت اتنی زیادہ نکل رہی ہے، تو پھر کم ریٹ پر گوشت فروخت کرنے کا دباؤ ڈالنا سراسر ناانصافی ہے۔
ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن (DCFA) کا موقف:
بطور صدر DCFA، میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اگر فارمر کو جانور کی پالنے کی لاگت (Cost of Production) نہیں ملے گی، تو وہ یہ کاروبار بند کر دے گا۔ جس کا نتیجہ گوشت کی شدید قلت اور مزید مہنگائی کی صورت میں نکلے گا۔
ہماری مطالبات:
* حقیقت پسندانہ نرخ نامہ: انتظامیہ راولپنڈی ماڈل کی روشنی میں گوشت کے ریٹس پر فوری نظرِ ثانی کرے۔
* ٹیکسوں کا خاتمہ: منڈیوں میں جانوروں کی خرید و فروخت پر لگائے گئے بھاری ٹیکس فی الفور ختم کیے جائیں۔
* فارمر کو ریلیف: ونڈہ اور فیڈ کے اجزاء پر سبسڈی دی جائے تاکہ پیداواری لاگت کم ہو اور عوام کو سستا گوشت مل سکے۔
ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ جبر کے بجائے حقائق کی بنیاد پر فیصلے کرے۔ فارمر بچے گا تو پاکستان میں لائیوسٹاک بچے گی۔
شاکر عمر گجر
مرکزی صدر، ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن پاکستان
ای میل: [email protected]
فون: +923008281786