Muhammad Shahid Online quran

Muhammad Shahid Online quran سبحان اللہ العظیم

10/08/2024

قبر کی گہرائی اور تنہائی ہمارے انتطار میں ہے.
بہت جلد بستر بدل جائیں گے۔
اللہ پاک ہم سب کا خاتمہ ایمان پر فرمائے۔
آمین💝💝💝

20/02/2024

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

اپنا زاتی پلاٹ برائے فرو خت کرنا ہے رابط نمبر 03215025776
25/10/2023

اپنا زاتی پلاٹ برائے فرو خت کرنا ہے رابط نمبر
03215025776

30/03/2023

9...10.. ماڈل..G l iسفید کلر میں چائے ہے ۔۔
کسی دوست نے فروخت کرنی ہو ۔۔۔
بتائے گا ۔۔

16/03/2023

🌷 تجوید اور طلباء کرام 🌷
قرآن مجید کو تجوید کے ساتھ پڑھنا ضروری ہے ۔
تجوید کا مطلب ہے "الف "سے "یا" تک تمام حروف کو ان کے مخرج ( نکلنے والی جگہ ) سے ادا کرنا اور اس کے ساتھ صفات کا خیال کرنا ، صفات سے مراد حروف کا موٹا اور باریک پڑھنا ، حروف میں نرمی یا سختی کا ہونا ، غنہ وغیرہ۔
اب ہمارے ہاں طلباء کرام کو تجوید سے قرآن مجید پڑھانے کے حوالے سے مختلف نظریات ہیں۔
کچھ والدین ، مدارس اور اساتذہ کرام کا نظریہ یہ ہوتا ہے کہ قرآن مجید ناظرہ و حفظ کے دوران صرف قرآن مجید پڑھائیں ، تجوید کے لئے الگ ایک سال یا دو سال کا کورس کرلیں گے۔
ایسی صورتحال میں اکثر بچے قرآن مجید تیز تیز پڑھنے والے ہوتے ہیں، قرآن مجید مکمل ہوجاتا ہے اور حروف کی ادائیگی درست نہیں ہوتی ، حرف "ح" اور" ہ "میں فرق نہیں کرتے ۔ حرف " ذ "اور حرف " ز" میں فرق نہیں ہوتا ۔
کچھ مدارس میں نورانی قاعدے والے بچے کو بھی تجوید کے قواعد سکھائے جائے رہے ہوتے ہیں ، ایسی صورتحال میں اکثر بچے چھوٹے ہوتے ہیں جو اظہار ، ادغام ، اقلاب ، اور اخفاء وغیرہ سمجھتے نہیں ، صرف یاد اور رٹا لگا رہے ہوتے ہیں، اور اس میں یہ دیکھا گیا ہے اگر بچے نے قاعدہ مکمل کرلیا اور قواعد یاد نہیں ہوئے تو آگے قرآن مجید شروع نہیں کرایا جاتا ۔
اور یہ چھوٹے بچے رٹا لگا کر یاد کرتے ہیں جو بعد میں بھول جاتا ہے۔
کچھ جگہوں پر تجوید کا مطلب یہ لیا جاتا ہے کہ لمبی لمبی سانسوں کی مشق کروائیں اور کہیں پر صرف خوبصورت آواز کو تجوید کا نام دیا جاتا ہے۔
اس حوالے سے میری رائے یہ ہے کہ نورانی قاعدے کے ختم ہونے تک مخارج بالکل درست ہونے چاہیے، اور مشق والے الفاظ میں ہجے اور روانی دونوں کے ساتھ پڑھنا جانتا ہو ، اگر یہ ٹارگٹ مکمل ہوجائے تو قاعدہ کا مقصد تقریباً مکمل ہوجاتا ہے۔
اب جب ناظرہ قرآن مجید شروع ہو تو پہلے پارے میں ٹارگٹ اور ھدف یہ ہونا چاہیے کہ اس کی روانی بہتر سے بہتر ہو پھر آدھے پارے یا ایک پارے کے بعد تجوید کے بنیادی قواعد آہستہ آہستہ سکھائیں۔
اسی طرح قرآن مجید حفظ کرنے کے دوران بھی آہستہ آہستہ تجوید کے قواعد سکھائیں۔
تجوید کے بنیادی قوانین یہ ہیں ۔
نون ساکن اور تنوین کے چار احکام
( اظہار، ادغام ، اقلاب، اخفاء )
میم ساکن کے تین احکام
( اظہار شفوی ، ادغام مثلین ، اخفاء شفوی )
نون مشدد اور میم مشدد کے احکام ۔
قلقلہ کے حروف اور اس کی اقسام ۔
مکمل پڑھیں ۔
کمن

16/03/2023
02/03/2023

🔮 _*عالمِ دین سے شادی کرنے کے فوائد*_ 🔮

آج کل لڑکیوں کا مزاج اس طرح ہے کہ اگر ان کے نکاح کے لیے کوئی عالم یا داڑھی والا دیندار لڑکا تجویز کیا جائے تو وہ منع کر دیتی ہیں کہ ہمیں مولانا اور داڑھی والے سے شادی نہیں کرنی یعنی ہیرو ٹائپ لڑکا ہی چاہیے شاید انہیں مولاناؤں کی خوبیوں اور ان کے ساتھ شادی کرنے کے فوائد کا علم نہیں ورنہ وہ اپنے لیے عالم لڑکے کو ہی ترجیح دیں چنانچہ مندرجہ ذیل میں چند فوائد کا ذکر کیا جاتا ہے

• نیک صالح عالم جہیز کی مانگ نہیں کرتا
• عالم اپنی بیوی کے مکمل حقوق سے واقف ہوتا ہے اس لئے وہ حق تلفی نہیں کرتا
• عالم اپنی بیوی کو بہت خوش رکھتا ہے
• عالم اپنی بیوی کا گھر اور کچن کے کاموں میں بھی ہاتھ بٹاتا ہے
• عالم اپنی بیوی کو پردے میں رکھتا ہے کیونکہ بے پردہ عورت شیطان کا نوالہ ہوتی ہے
• عالم اپنی بیوی کی دنیا و آخرت دونوں کا خیال رکھتا ہے اس لیے اس کو دین دار بناتا ہے نماز روزہ کی تاکید کرتا ہے
• عالم کی بیوی کی معاشرے میں الگ ہی شان ہوتی ہے سبھی عورتیں عالم کی بیوی سے بہت ادب سے پیش آتی ہیں
• عالم اپنی بیوی کی تلخ باتوں پر جلدی غصہ نہیں ہوتا اور اگر ہوتا بھی ہے تو بہت جلد اپنے غصے پر قابو پا لیتا ہے
• عالم اپنی بیوی پر ظلم و ستم نہیں کرتا اس کو بے جا ڈانٹتا ڈپٹتا نہیں اور نا ہی اس پر ہاتھ اٹھاتا ہے
• عالم نہ ہی کنجوس ہوتا ہے اور نہ ہی فضول خرچی کرنے والا بلکہ اپنی حیثیت کے مطابق تمام ضروریات پوری کرتا ہے
• عالم سود جوا لاٹری اور تمام حرام کمائی سے بچتا ہے اور اپنے اہل و عیال کو بھی محفوظ رکھتا ہے
• عالم اپنے بچوں کی صحیح تربیت کرتا ہے اور انہیں دینی تعلیم سے آراستہ کرتا ہے
• عالم اپنی بیوی کو روٹھنے نہیں دیتا اگر روٹھ جائےتو منا لیتا ہے
• عالم اپنی بیوی سے بے وفائی نہیں کرتا یہی وجہ ہے کہ عالم کے یہاں طلاق کی نوبت بہت کم آتی ہے
• عالم معاشرے کا سب سے شریف انسان ہوتا ہے کسی سے لڑائی جھگڑا نہیں کرتا
*نوٹ:* بشرطیکہ عالم و دیندار حقیقت میں عالم و دیندار ہو براۓ نام نہیں۔

27/02/2023

*ماں کا اثر اولاد پر*

عربی مقولہ ھے *اَلاُمُّ تَصنَعُ الاُمَّۃَ*
یعنی ایک ماں پوری اُمَّت کی بنیاد رکھتی ھے
یہ حقیقت ھے کہ جب سے ماں کے پیٹ میں بچہ حرکت کرنے لگتا ھے وہ ماں کی ہر اچھی بری بات کا اثر قبول کرنے لگتا ھے جب تک وہ خود سمجھدار نہ ہو جائے ماں کا اثر زیادہ قبول کرتا ھے
بلکہ عورت کی پاکیزگی کا اثر اُس کے شوہر کی زندگی پر اُس کی عبادت پر اُس کے دین پر بھی پڑتا ھے
اِسی وجہ تو کہا گیا کہ عورت مرد کے نصف دین کی محافظ ہے
ایک بزرگ اپنی بیوی سے کہنے لگے کہ میں تہجد پڑھتا ہوں جبکہ تم صرف فجر کی نماز پڑھتی ہو
دوسرے دن بابا جی کی آنکھ فجر میں جا کھلی
بیوی کو کہنے لگے معلوم نہیں کیا ہوا پہلے تو آسانی سے تہجد میں بیدار ہوجاتا تھا آج فجر مشکل سے پڑھ پایا
بیوی صاحبہ کہنے لگیں کہ پہلے میں روز آٹا گوندھنا اور کھانا بنانا با وضو کیا کرتی تھی
مگر کل جان بوجھ کر نہیں کیا بس اُسی کی وجہ سے آپ کی آنکھ نہیں کھلی کیونکہ آپ کی تہجد میں میرے با وضو کھانا بنانے کا عمل دخل زیادہ تھا
عورت کی دینداری اور علمِ دین بچوں میں خوب رنگ جماتا ھے
ماں دیندار ہو تو بچہ با کمال بنتا ھے
امام شافعی کی پرورش ماں نے کی
امام احمد کی پرورش ماں نے کی
امام بخاری کی پرورش ماں نے کی
عفراء بنت عبید وہ خوش نصیب صحابیہ ہیں جن کے سات بیٹوں نے اسلام کی پہلی جنگ میں شرکت کی
اُسی پاک ماں کے وہ دو بہادر بیٹے معاذ ومعوذ تھے جنہوں نے ابو جہل کو قتل کیا تھا
جب ماؤں نے بچوں کو دین کی گُھٹی پلائی تب بچے مجاہدین پیدا ہوئے تب بچے علماء پیدا ہوئے
اب ماؤں نے دنیا پلا دی تو بچے ادکار و فنکار و گلوکار پیدا ہوتے آجکل بچوں کو دین پڑھانے سے اھم بچیوں کو دین پڑھانا ھے..

*صدقہ جاریہ کی نیت سے پوسٹ اپنے پیاروں کے ساتھ شیئر کیجۓ*

22/02/2023

🌷آپ کا سوال 🌷
کچھ ساتھی بار بار یہ پوچھتے رہتے ہیں کہ ہمیں کوئ رہنمائی کرنے والا نہیں ہوتا کہ ہم کیسے پڑھا رہے ہیں ؟
یا ہم اپنی کلاس کو پڑھائ کے حوالے سے معیاری کیسے بنائیں ؟
تو یہ ایک ایسا موضوع ہے جن پر کئ صفحات لکھے جاسکتے ہیں ۔
مختصراً چند باتوں کی طرف اشارہ کردیتا ہوں ۔
1) نورانی قاعدے میں حروف کے مخارج درست ہونے چاہیے ۔
ہر سبق کو ہجے اور روانی سے طالب علم پڑھ سکے ۔
ہر سبق کا جو مقصد ہے وہ حاصل ہونا چاہیے ۔
2) ناظرہ میں مخارج کی درستگی کے ساتھ ساتھ روانی پر توجہ دیں ۔
3) حرکات معروف پڑھیں ۔
4) موٹے اور باریک حروف کی ادائیگی درست ہو ۔
5) حفظ کی کلاس میں بچوں کی منزلیں یاد ہوں ۔
اور ساتھ ساتھ تجوید کے بنیادی قواعد سکھائیں ۔
6) روز مشق کا اہتمام ہو ۔
7) ماہر قراء کرام کی تلاوت سنوانے کا اہتمام ہو ۔
8) حاضری اور غیر حاضری کا مکمل نظام اور طریقہ کار ہو ۔
9) یونیفارم ہو ۔
10) اساتذہ وقت کی پابندی کریں ۔
11) طلباء کرام کے مزاج کو سمجھیں ۔
12) شوق اور رغبت دلائیں اور بوقت ضرورت ڈرانے اور حدود میں رہ کر مارنے کی گنجائش رکھیں ۔
13) سنجیدہ اور باوقار رہیں ۔
14) مختلف مسابقوں کا اہتمام کریں ۔
15) اھل فن اور اساتذہ سے رابطے میں اور ان سے مشورے لیتے رہیں ۔
16) سبق ہمیشہ خود سنیں اور اس میں غلطی کی گنجائش نہ رکھیں ۔
17) والدین کے ساتھ تعلق رکھیں اور ان کا تعاون حاصل کریں ۔
18) کمزور بچوں پر خصوصی توجہ دیں ۔
19) طلباء کو غصہ کرتے یا سزا دیتے وقت غلطی کے بقدر سزا دیں اور اس میں اصلاح کا جذبہ نظر آئے نہ کہ ذلیل کرنے کا ۔
20) دعاؤں کا خصوصی اہتمام کریں ۔
قاری محمد شاھد صاحب

Address

Rawalpindi
5516S

Telephone

+3215025776

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Muhammad Shahid Online quran posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category