04/05/2023
خود بہ خود ایسے وہ شعروں میں اتر آتا ہے
جیسے مالک بنا دستک دئے گھر آتا ہے
یہ ضروری نہیں ہو گھر کا پتہ تو آئے
اس کو بن آئے بھی آنے کا ہنر آتا ہے
دل سے اٹھ جاتی ہے ہر شے کی محبت اس دم
جب محبت کے کوئی زیرِ اثر آتا ہے
مجھ کو معلوم نہیں آپ کی صورت کیا ہے
مجھ کو ہر شخص میں وہ شخص نظر آتا ہے
میں چھپاتا ہوں بہت نام مگر کیا کیجے
ایک چہرہ میرے لفظوں میں ابھر آتا ہے
لازماً ماں نے مری یاد کیا ہو گا مجھے
ورنہ صحرا میں بھلا سبز شجر آتا ہے
کس کی بن سکتی ہے خود سوچو بھلا اس دل سے
جو بھی کہتا ہوں الٹ اُس کا یہ کر آتا ہے
دوست آساں نہیں برسوں کی ریاضت ہے کہ اب
بہ خوشی سوگ منانے کا ہنر آتا ہے
ہے یہ احساس غلط راہ نکل آیا ہوں
ایسے رستے میں مگر موڑ کدھر آتا ہے
یہ جو انسان ہے خود غرضی میں کم ظرفی میں
جانے کتنوں کو اکیلا ہی بسر آتا ہے
آج پھرتا ہے جو اس شہر میں ہنستا بستا
کل کے اخبار میں وہ بن کے خبر آتا ہے
کیا عجب ہم پہ بھی کچھ دن کو بہار آ جائے
اس کی قربت میں تو پت جھڑ بھی نکھر آتا ہے
یونہی صحرا کا رویہ نہیں روکھا مجھ سے
اس کی دانست میں مجنوں ہی ادھر آتا ہے
جب بھی محفل میں گیا خود کو دغا دینے کو
دو گھڑی میں ہی یہ دل مجھ سے مکر آتا ہے
وہ جو ہنستا ہؤا آتا ہے گلی سے اس کی
اس کو دیکھے بنا شاید وہ گزر آتا ہے
اپنی مرضی یہاں رکھتا نہیں کوئی ابرک
اٹھ کے چل دیتا ہے جب حکمِ سفر آتا ہے
خاک سمجھے گی تری بات یہ دنیا ابرک
تم کو کہنے کا سلیقہ ہی کدھر آتا ہے
اتباف ابرک