27/07/2025
یہ دل کو ہلا دینے والا منظر ہے
جب سب راستے بند ہو چکے ہوں
جب زمین پر کوئی دروازہ نہ کھل رہا ہو
تو بندے آسمان کی طرف دیکھ کر اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں
اور پھر… دل سے نکلتی ہے وہی صدا جو رب نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ماں کو سکھائی تھی
"فَأَلْقِيهِ فِي الْيَمِّ"
تو ڈال دے اسے دریا میں…
(سورہ طٰہٰ، آیت 39)
اسی یقین، اسی توکل، اور اسی امید کے ساتھ
مصر کے عام لوگ — وہ لوگ جن کے پاس نہ حکومت ہے نہ اختیار
اپنی روزی کاٹ کر، اپنے گھروں سے کھانے کی چیزیں بوتلوں میں بھر کر
غزہ کے سمندر میں ڈال رہے ہیں
اس امید کے ساتھ کہ شاید
"اللہ کے حکم سے یہ چیزیں اپنی منزل تک پہنچ جائیں"
کیا معلوم
کس بوتل میں کسی بچے کے لیے زندگی کا آخری گھونٹ ہو
کس دانے سے کسی ماں کی گود آباد ہو جائے
کس ٹھنڈے گھونٹ سے کسی زخمی کو نئی سانس مل جائے
یہ صرف کھانا نہیں
یہ صرف پانی نہیں
یہ یقین ہے
یہ وفا ہے
یہ امت کا درد ہے جو بہتے پانی میں بھی راستہ تلاش کر لیتا ہے
🌊 اور قرآن گواہ ہے کہ جو اللہ پر توکل کرتا ہے
اس کے لیے سمندر بھی راستہ بن جاتا ہے
جیسے فرمایا:
"وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ"
جو اللہ پر بھروسہ کرے، اللہ اس کے لیے کافی ہے
(سورہ الطلاق، آیت 3)
اللہ ان مظلوموں کے لیے یہ چھوٹے چھوٹے قطرے
بڑے بڑے سمندر بنادے
اور ان بہن بھائیوں کی نیتوں کو قبول فرمائے
جنہوں نے درد کو خاموشی سے پانی میں رکھ کر
اللہ کے در پر رکھ دیا…
"إِنَّ رَبِّي لَطِيفٌ لِّمَا يَشَاءُ"
بے شک میرا رب ہر چیز کے لیے بڑا مہربان ہے
(سورہ یوسف، آیت 100)
ان شاءاللہ… یہ بوتلیں اپنی منزل پر پہنچیں گی
کیونکہ اللہ کی راہ میں دی گئی چیز کبھی ضائع نہیں جاتی