Noor-ul-ain نورالعين

Noor-ul-ain نورالعين Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Noor-ul-ain نورالعين, Grocers, Sahiwal.

20/07/2025

میں نے چند ماہ پہلے وٹس ایپ پہ ایک skincare گروپ بنایا۔ اس دوران میری تقریباً دو ہزار عورتوں سے بات چیت ہوئی۔ مجھے لگا کہ ہم سب عورتیں ایک جیسی ہیں۔ ہم نے ایک عورت کی حیثیت سے ہمیشہ اپنی صحت کو پیچھے رکھا۔ کبھی بچوں کی مصروفیات، کبھی گھر کے کام، کبھی سسرال، کبھی جاب اور کبھی کچھ۔ جب اپنے لیے کچھ وقت نکالا… تو وہ بھی چہرے پر ایک کریم، ہاتھوں پر لوشن، یا کسی مہنگے سیرم میں گزر گیا، بس اتنا کہ آئینے میں خود کو اپنا آپ تھوڑا بہتر لگنے لگے۔

وقت یونہی گزرتا رہا۔ پھر ان عورتوں کے مسائل مزید بڑھنے لگے۔

نہ وقت پر ماہواری، نہ نیند پوری، نہ مزاج میں سکون۔
بال جھڑنے لگے، چہرہ دانوں سے بھر گیا، کمزوری طاری ہونے لگی۔
ڈاکٹر نے کہا:
"آپ کو PCOS ہے، hormonal imbalance ہے۔"

بس سوچنے لگیں: "میں نے ایسا کیا کیا؟"
کھانے کا خیال رکھا، نیند پوری کی، واک بھی تو کی۔

مگر جواب باتھ روم کے شیلف پر رکھا تھا
وہی کریم، وہی باڈی واش، وہی سکن کیئر پراڈکٹس، جنہیں خوبصورتی کا ذریعہ سمجھا۔

یعنی بے خبری میں خود کو خود ہی زہر دیتے رہے۔

میری بہنو! ہماری جلد صرف بیرونی خ*ل نہیں ہے، یہ چیزوں کو جذب کرتی ہے۔
جو کچھ ہم جلد پر لگاتے ہیں، وہ خون میں شامل ہو جاتا ہے۔ اور جب ہم روز انہی چیزوں میں چھپے کیمیکلز استعمال کرتے ہیں تو وہی ہمارے اندر ہارمونز کی تباہی کا باعث بنتے ہیں۔

میں آپ کو ان پراڈکٹس میں چھپے خطرناک کیمکلز کے بارے میں تبرج کورس کے دوران بھی بتا چکی ہوں۔ آج ایک بار پھر دیکھ لیتے ہیں۔

1. Phthalates
یہ اکثر "Fragrance" یا "Parfum" کے نام سے پراڈکٹس میں چھپائے جاتے ہیں۔
ہارمونز کاپی کرتے ہیں، اور ان کا توازن بگاڑتے ہیں
PCOS اور بانجھ پن کا سبب بن سکتے ہیں
بچوں میں وقت سے پہلے بلوغت باعث ہیں۔
حمل کے دوران نقصان دہ اثرات پیدا کر سکتے ہیں۔

2. Parabens
اکثر کریم، لوشنز، شیمپوز اور کاسمیٹکس میں موجود ہوتے ہیں۔
جسم میں ایسٹروجن کی سطح کو غیر فطری طور پر بڑھاتے ہیں
بریسٹ کینسر کے اثرات پیدا کرتے ہیں۔
یہ hormonal imbalance کی وجہ ہیں۔
جلد پر سوزش یا الرجی کر سکتے ہیں۔

3. Triclosan
اکثر اینٹی بیکٹیریل صابن، فیس واش، ٹوتھ پیسٹ میں پایا جاتا ہے۔
تھائیرائیڈ ہارمونز پر منفی اثر ڈالتا ہے۔
مدافعتی نظام کو کمزور کرتا ہے
جگر پر اثر ڈال سکتا ہے
ہارمونی نظام میں رکاوٹ ہے۔

4. Steroids

اکثر whitening creams اور acne treatments میں چھپے ہوتے ہیں، بغیر ڈاکٹر کی اجازت کے استعمال کیے جا رہے ہیں۔
جلد کو پتلا، حساس اور خراب بنا دیتے ہیں
چہرے پر مستقل دھبے یا بالوں کی زیادتی کا سبب ہیں۔
پیریڈ سائیکل کو خراب کر رہے ہیں۔
اور ایڈرینل گلینڈ کے نظام میں گڑبڑ کرتے ہیں۔

یعنی ہم نے بیوٹی کو معیار بنا لیا، اور صحت کو قربان کر دیا۔

آج کی بچیاں 12 سال کی عمر میں نائٹ کریم لگانا شروع کر دیتی ہیں۔
سوشل میڈیا ہر دن ایک نیا trend دکھاتا ہے
اور ہم سب دوڑ پڑتے ہیں، بنا سمجھے، بنا پوچھے،
صرف اس لیے کہ “چمکتی جلد” ہماری کامیابی کی علامت بن چکی ہے۔

لیکن کوئی یہ نہیں بتاتا کہ وہ "glow" PCOS، بانجھ پن، تھائیرائیڈ کے مسائل، skin aging میں بدل سکتا ہے۔

آپ کو پتہ ہے؟
ہمیں کسی ڈاکٹر، کمپنی، یا influencer کی نہیں
صرف شعور کی ضرورت ہے۔

ہمیں بس:
1. ہر پراڈکٹ کا لیبل غور سے پڑھنا ہے
2. تمام Fragrance-free، Paraben-free، Steroid-free اشیاء کا استعمال کرنا ہے
3. سفید رنگ اور خوشبو کے دھوکے سے نکل کر صاف، محفوظ، سادہ چیزوں کا انتخاب کرنا ہے۔
4. اپنی بیٹیوں کو سکھانا ہے کہ خوبصورتی کا مطلب صرف چمکتا چہرہ نہیں، بلکہ صحت مند جسم اور پر سکون دل ہے

ہم نے اپنے گروپ میں صرف ہربل چیزوں کا ذکر کیا۔ اور بہت بہتری بھی آئی۔ آپ بھی ان پہ توجہ دے سکتی ہیں۔

میں جانتی ہوں کہ یہ مشکل ہے۔

شاید آپ کے شوہر کہیں: "تم پھر وہی ہربل چیزیں لے آئیں؟"
شاید بچی ناراض ہو کہ وہ نیا انسٹاگرام والا فیشل ماسک کیوں نہیں لینے دیا۔
شاید کوئی سہیلی ہنس کر کہے: "اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا

لیکن فرق پڑتا ہے۔

فرق پڑتا ہے، جب کوئی ماں اپنی بیٹی کو قدرتی چیزوں کی طرف لاتی ہے۔
فرق پڑتا ہے، جب آپ اپنا جسم سمجھ کر، اسے اہمیت دے کر، اس کی حفاظت کرتی ہیں۔

اور فرق پڑتا ہے، جب آپ خاموش رہنے کے بجائے… آواز بنتی ہیں۔

یقین کیجیے۔
اگر آپ آج سے کریم خریدتے وقت پیچھے مڑ کر اس کا لیبل دیکھیں گی، اگر آپ اپنی بہن، بیٹی یا دوست کو ایک محفوظ متبادل بتائیں گی، تو آپ صرف اپنی نہیں، آنے والی نسلوں کی صحت کو بھی بچا سکیں گی۔

مجھے یقین ہے کہ آپ اس کے بارے میں ضرور سوچیں گی۔ اور اگر اس بارے میں کچھ معلومات رکھتی ہیں تو دوسروں کے ساتھ شیئر کرتی جائیے تاکہ اس کمیونٹی سے سب کو فائدہ پہنچے۔

محبت اور دعائیں ❤️

09/07/2025

جب میں مر جاؤں گا تو مجھے کوئی فکر نہیں ہوگی… اور نہ ہی اپنے بے جان جسم کی کوئی پرواہ ہوگی… کیونکہ میرے مسلمان بھائی وہ سب کچھ کریں گے جو ضروری ہے، یعنی:
• وہ میرے کپڑے اتار دیں گے…
• مجھے غسل دیں گے…
• مجھے کفن میں لپیٹیں گے…
• مجھے میرے گھر سے نکالیں گے…
• اور مجھے میرے نئے مسکن (قبر) تک لے جائیں گے…
• بہت سے لوگ میری نمازِ جنازہ میں شریک ہوں گے…
• بلکہ کئی لوگ اپنی مصروفیات اور ملاقاتیں منسوخ کر دیں گے، صرف میری تدفین کے لیے…
یہ وہ لوگ ہوں گے جن میں سے شاید بہت کم نے کبھی میری نصیحتوں پر دھیان دیا ہو۔
پھر میری چیزیں ختم کر دی جائیں گی…
• میری چابیاں…
• میری کتابیں…
• میرا بیگ…
• میرے جوتے…
• میرے کپڑے…
اور اگر میرے اہلِ خانہ نیک ہوں گے، تو وہ ان چیزوں کو صدقہ کر دیں گے تاکہ وہ مجھے فائدہ دے سکیں۔
یقین رکھیں کہ دنیا مجھ پر نہیں روئے گی…
• دنیا کا نظام نہیں رکے گا…
• معیشت چلتی رہے گی…
• اور میری جگہ کسی اور کو نوکری مل جائے گی…
• میرا مال ورثاء کو منتقل ہو جائے گا…
جبکہ ان سب چیزوں کا حساب مجھ سے لیا جائے گا!
• تھوڑے کا بھی…
• زیادہ کا بھی…
• ذرہ ذرہ کا بھی…
اور موت کے وقت سب سے پہلے جو چیز مجھ سے چھین لی جائے گی، وہ میرا نام ہوگا!
جب میں مر جاؤں گا تو لوگ کہیں گے: “جنازہ کہاں ہے؟”
اور میرا نام نہیں پکاریں گے!
جب وہ میری نمازِ جنازہ پڑھیں گے تو کہیں گے: “جنازہ لاؤ!”
اور میرا نام نہیں پکاریں گے!
جب وہ مجھے دفن کریں گے تو کہیں گے: “میت کو قریب کرو!”
اور میرا نام نہیں پکاریں گے!
لہذا مجھے میرے نسب، میری قومیت، میرے عہدے اور میری شہرت پر کوئی غرور نہیں ہونا چاہیے!
یہ دنیا کتنی حقیر ہے…
اور وہ حقیقت کتنی عظیم ہے جس کی طرف ہم بڑھ رہے ہیں!
لہذا اے زندہ انسان! جان لو کہ تم پر تین طرح کا غم کیا جائے گا:
1. وہ لوگ جو تمہیں سرسری جانتے ہیں، کہیں گے: “بیچارہ!”
2. تمہارے دوست کچھ گھنٹوں یا دنوں تک غم کریں گے، پھر اپنی باتوں اور ہنسی مذاق میں مشغول ہو جائیں گے۔
3. گہرا غم تمہارے گھر والوں کو ہوگا، جو ایک ہفتہ، دو ہفتے، ایک ماہ، دو ماہ یا ایک سال تک رہے گا…
پھر وہ تمہیں یادوں کے گوشے میں ڈال دیں گے!
تمہاری کہانی دنیا والوں کے لیے ختم ہو جائے گی…
اور تمہاری اصل کہانی شروع ہو جائے گی…
تم سے چھن جائے گا:
• حسن…
• دولت…
• صحت…
• اولاد…
تم گھر، محلات، اور بیوی کو چھوڑ دو گے…
اور تمہارے ساتھ صرف تمہارے اعمال رہ جائیں گے!
اور یہی حقیقی زندگی کی شروعات ہوگی!
سوال یہ ہے:
آج سے اپنی قبر اور آخرت کے لیے کیا تیار کیا؟
یہ حقیقت سوچنے کی متقاضی ہے…
لہذا…
• فرض نمازوں کا خیال رکھو…
• نفل عبادات کرو…
• خفیہ صدقہ کرو…
• اچھے اعمال کرو…
• رات کی نماز ادا کرو…
تاکہ تم بچ سکو۔
اگر تم نے لوگوں کو اس تحریر کے ذریعے نصیحت کی جب تم زندہ ہو، تو قیامت کے دن تمہیں اس کا اجر ملے گا، ان شاء اللہ!
“اور نصیحت کرتے رہو، کیونکہ نصیحت مومنوں کو فائدہ دیتی ہے۔” (الذاریات: 55)
Online Quran Tutor Available🌹❤️❣️

ملتان کی گرمی سے بچنے کے لیے نکلی اسلام اباد مری وہاں پر بھی ٹھنڈ نہ ملی پھر پہنچی مظفراباد کشمیر مگر وہاں پر بھی مایوسی...
19/06/2025

ملتان کی گرمی سے بچنے کے لیے نکلی اسلام اباد مری وہاں پر بھی ٹھنڈ نہ ملی پھر پہنچی مظفراباد کشمیر مگر وہاں پر بھی مایوسی کے بعد جب پہنچی ناران کاغان اور فائنلی بابوسر ٹاپ تو ٹھنڈ کیا برف باری بھی مل گئی اور کیا خوبصورت نظارے تھے بس دل تھا ان حسین نظاروں میں کھو گئ

صیہونی ریاست اسرائیل کے بعد دنیا کے کس ملک میں سب سے زیادہ یہودی آباد ہیں؟دنیا میں یہودیوں کی آبادی گزشتہ ایک سال کے د...
19/06/2025

صیہونی ریاست اسرائیل کے بعد دنیا کے کس ملک میں سب سے زیادہ یہودی آباد ہیں؟

دنیا میں یہودیوں کی آبادی گزشتہ ایک سال کے دوران ایک لاکھ اضافے سے ایک کروڑ 58 لاکھ ہوگئی ہے۔

اسرائیلی میڈیا نے ہیبریو یونیورسٹی یروشلم کے پروفیسر کی تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا میں یہودیوں کی سب سے بڑی تعداد یعنی 73 لاکھ یہودی اسرائیل میں آباد ہیں، اسرائیل میں مقیم یہودیوں کی تعداد میں گزشتہ ایک سال کے دوران ایک لاکھ کا اضافہ ہوا ہے۔

میڈیا رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کے بعد یہودیوں کے سب سے بڑی تعداد امریکا میں آباد ہے، امریکا میں رہنے والے یہودیوں کے تعداد اسرائیل کے مقابلے میں 10 لاکھ کم یعنی 63 لاکھ ہے۔

رپورٹ کے مطابق فرانس میں 4 لاکھ 38 ہزار 500 جبکہ کینیڈا میں 4 لاکھ یہودی آبادی ہیں۔

اسرائیل، امریکا، فرانس اور کینیڈا کے بعد سب سے زیادہ 3 لاکھ 13 ہزار یہودی برطانیہ میں آباد ہیں۔

ارجنٹینا میں ایک لاکھ 70 ہزار ، جرمنی میں ایک لاکھ 25 ہزار جبکہ روس میں ایک لاکھ 23 ہزار یہودی آباد ہیں۔

آسٹریلیا میں ایک لاکھ 17 ہزار، برازیل میں 90 ہزار 300 اور جنوبی افریقا میں 49 ہزار 500 یہودی آباد ہیں۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق ہنگری میں 45 ہزار، میکسیکو میں 41 ہزار اور نیدرلینڈ میں 35 ہزار، بھارت میں 4704، ایران میں 9310 یہودی آباد ہیں، یہ اعداد و شمار ستمبر 2024 کے اختتام تک کے ہیں۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق تحقیق میں ان افراد کو گنا گیا ہے جو مختلف ممالک کے شہری ہیں اور خود اپنی شناخت یہودی کے طور پر کرتے ہیں یا پھر ان کے والدین میں سے کم از کم کوئی ایک یہودی ہے اور وہ خود کسی دوسرے مذہب پر عمل پیرا نہیں ہیں

23/03/2025
:::::جدید دنیا کے منگول::::::تصویر میں دمیاط سے تعلق رکھنے والے مصری مجاہد موسیٰ الدرقاوی  اور ان کی  کھوپڑی نمبر 5942  ...
26/01/2025

:::::جدید دنیا کے منگول::::::

تصویر میں دمیاط سے تعلق رکھنے والے مصری مجاہد موسیٰ الدرقاوی
اور ان کی کھوپڑی نمبر 5942 ھے

جو پیرس کے میوزیم آف مین میں 170 سال سے محفوظ ہیں

موسی الدرقاوی نے 13 سال تک الجزائر کے حق میں فرانسیسی قبضے کے خلاف جنگ لڑی

وہ 22 دیگر مجاہدین کے ساتھ شہید ہوگئے

اور ان کا سر قلم کر دیا گیا
اپنے ملک کی آزادی کی خاطر لڑنے کے جرم میں صرف سر قلم نہیں کیا گیا بلکہ
1847 میں مشرقی الجزائر کے شہر بسکرا کے دروازے پر لٹکا دیا گیا

پھر ان کی کھوپڑی کو 2020 میں برآمد ہونے کے بعد
اور الجزائر میں دفن کرنے سے پہلے پیرس کے میوزیم آف نیچر اینڈ مین میں نمائش کے لیے فرانس بھیج دیا گیا

آپ دوسری تصویر میں دیکھ سکتے ہیں کہ نہ صرف انکی بلکہ دیگر مجاہدین کی کھوپڑیاں بھی نمبر لگا کر رکھی گئی ہیں
یہ جو بظاہر مہذب دنیا ہے حقیقت میں یہ سب سے زیادہ بد تہذیب ہیں
یہ ایسا شیطانی کھیل کھیلتے ہیں جس کو دیکھ کر حیوان بھی کہے کہ اچھا ہے میں جنگل کا حیوان ہوں

آپ بے شمار گوروں کی ویڈیوز دیکھتے ہوں گے جس میں کسی بطخ کسی کتے کے پلے کسی گائے کے بچے شیر کے بچے وغیرہ کو مصیبت سے نکالتے ہیں
ریسکیو کرتے ہیں

اور پھر پوری دنیا میں واہ واہ بٹورتے ہیں کہ یہ ہمیونٹی ہے یہی انسیانت ہے
بالی ووڈ اور ہالی ووڈ میں مسلمانوں کو جلاد دکھاتے ہیں

جبکہ انکی درندگی ایسی ہے جو اپکو نظر آرہی ھے
اور جو نظر نہیں آتی وہ اس سے کہیں زیادہ ہے
یہ جدید دنیا کے منگول ہیں
کہاں ہیں ہیومن رائٹس کی تنظیمات؟
کہاں ہیں انسانی حقوق کے علمبردار؟

جب تک جنگل کے شیر آپس میں لڑیں گے لگڑ بگڑ یونہی شیروں کا شکار کرتے رہیں گے

اب اتحاد امت کا وقت ھے
اللہ کرے ھم وہ دور اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں

12/12/2024

.

12/12/2024

مولا علی ع کا خطبہ بغیر الف
(خطبہ مونقہ)
================================================
یہ خطبہ امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کے معجزات میں شمار کیا جاتا ہے ۔ اس خطبہ میں اول تا آخر ایک لفظ بھی ایسا نہیں ہے جس میں الف ہو حالانکہ عربی زبان میں الف ایسا حرف ہے جو سب سے زیادہ مستعمل ہے۔
مظالب السئول میں لکھا ہے کہ ایک روز جناب رسول کریم اور چند اصحاب ایک مقام پر جمع تھے اور بحث شروع ہوئی کہ
"حروف تہجی میں کون سا حرف ایسا ہے جس کے بغیر کوئی جملہ پورا نہیں ہو سکتا اور الفاظ میں جس کا سب سے زیادہ استعمال یو سب نے اتفاق کیا کہ الف کے بغیر کلام کرنا نا ممکن ہے۔"
اس محفل میں حضرت علی علیہ سلام بھی موجود تھے۔ یہ سنتے ہی مولاۓ کائنات نے فی البدیہ یہ خطبہ ارشاد فرمایا۔ یہ خطبہ عربی زبان میں نہ صرف کمال کا آئینہ دار ہے بلکہ اسکا اردو ترجمہ پڑھ کر انسان حیرت میں ڈوب جاتا ہے۔ ایک مرتبہ ضرور مطالعہ فرمائیے۔
عربی:
====================
حمدت حمدہ و عظمت منہہ و سبقتہ نعمتہ وسبقت غضبہ رحمۃ وتمت کلمۃ ونفذت مشیۃ و بلغت حجتہ و عدلت قضیۃ حمدتہ a حمد مقر بر بوبیتہ متخفیع بعبودیہ منفعد من خطیتہ معترف بتوحیدہ مستعید من و عیدہ
مومل من ربہ مغفرتہ تنجیہ یوم یشغل عن فضیلتہ دینیہ ہ وتستعینہ و نستر شدُہ و نستھدیتہ و نومن بہ ونتوکل علیہ و شھدت لہُ تشھدُ عبد مخلص موقن و فردتہ تفرید مومن متیقن و وحدتُہ توحید عبد مذ عن لیس لہُ شریک فی ملکہ ولم یکن لہُ ولی سھیم فی صفحہ جل عن مشیرو وزیر و عون و معین و نضیرو نظیر علم فثر وبطر فخبر و ملک فقھر دعصی فغفروحکم فعدک و تکرم و تفضل لم یزل ولن یزول لیس کمثلہ شی و ھو قبل کل شی رب متعزز بعزتہ مُتفرد متمکن بقوتہ متقدس بعلوہ متکبرہ یعموہ لیس یدرکہ بصرولم یحط نظر قوی منیع بصیر سمیع روف رحیم ہ عجز عن وصفہ من یصفہ وضل عن نعتہ من عرفہ ترب فبعد وبعد فقرب یجیب دعوتہ من یدعوہ و یرفعہ ویجوہ ہ ذرُلطف خفی و بطش قوی ورحمتہ موسعتہ وعقوبہ موجعہ رحمتہ جنہ عریضہ مونقتہ وعقوبتہ حجیم ممدودتہ موبقَتہ ؛
وشھدتَ بیعث محمد رسولہ و عبدہ وصفیہ ونبیہ و مجیبہ و حبیبہ و خلیلہ بعثہ فی خیر عصر وحین فعقرتہ و کفر رحمتہ بعبدہ م منہ لمزیدہ ختم بہ نبوتہ وشید بہ حجہ لو عظ ونصح وبلغ وکدح روف بکل مومن رحیم سخی رضی ولی ڑکی علیہ رحمتہ وتسلیم و برکتہ و تعظیم و تکریم من بر غفور رحیم قریب مجیب وصیتکم معشرمن حضرلی بوصیتہ ربکم و زکرتکم بسنتہ نبیکم تعلیکم برھبتہ تسکن قلوبکم وخثیتہ تذری رموعکم وتقیتہ تنجیکم قبل یوم یبلکم و قذھلکم
یومَ یفوزنیہ من ثقل وزن حسنتہ و حف وزن سیتہ ولتکن مسلتکم و تملقلم مسلتکم خضوع و شکر و خشوع بتوبتہ و نزوع م مدم و رجوع و یغتنم منکم کل فعتنیم صسحتہ قبل سقمہ و شبیہ قبل ھرمہ و غیہ قبل فقرہ و فرغہ قبل شغلہ و حضرتہ قبل سفرہ و تھونہ قبل تکسیر و تھرم و تمرض و تسقم یملہ طبیہ و یعرض عنہ حبیبہ و ینقطع عمرہ و یتغیر عقلہ ہ
تم قیل مو عوت و حسمہ منھوک ثم جدفی نزع شدید و حضرہ کل قریب و بعید فشخص بصرہ و طمع نظرہ و رشح جبینہ و عطف عینینہ و سکن حنینہ وجدب نفسہ و بکتہ عرسہ و حفر رمسہ وییتم ولدہ ؛
و تغرق عنہ عدوہ و فصم جمعہ وذھب بصرہ وسمعہ و مددو جرد و عری و غسل و نشف و سبجی و یسط لہ وحصی و نشر علیہ کفنہ وشد منہ ذقنہ وقمص و عمِمَ وَ دِع و سلم و جمل فوق سریر و صلی علیہ تکبر بغیر سجود و تعفیر و نقل من دور مز خرفیتہ و قصور مشیدتہ وحجر منجدتہ و جعل فی ضریح لمجود و ضیق مر مود بلین منضود م مسقف بجلمود و ھیل علیہ عفرُہ و حسی علیہ مدرہ و تحقیق حدرہ وتسی خبرہ و رجع عنہ ولیہ و صفیہ وندیمہ نسیبہ و حمیمہ وتبدل بہ قرینہ وحبیبہ نھو حشو قبر و ر ھین قفیر یسعی بجمہ دور قبرہ ویسیل صدیدہ من منخرہ لیحق تربتہ لحمہ و ینشف دمہ بجنبیتہ و بر عظمہ حتی یوم حشرہ فینشر من قبرہ حین ینفح فی صور و یدعی بحشر و نشور فتم بعرت قبرو و حصلت سریرتہ صدور و جیی بکل نبی وصدیق وشھید و توحد للفضل قدیر لعببدہ خبیر بصیر فکم من ذفرتہ تعنمہ وفسرتہ تضنیہ فی موقف مھیل م مشہد جلیل بین یدی ملک عظیم و بکل صغیر و کبیر علیم و حنیذ ملحقہ عرقہ ویحضرہ قلقہ عبرتہ غیر موجومتہ و صرختہ غیر مسحموعتہ م حجتہ غیر مقبولتہ و نبینت جریرتہ و نشر صحیفہ فنظر فی سوءِ عملہ شھدتُ علیہِ علیُہ بنظرہ و یدہ بطشہ و رجلہ بنحطوہ و فرجہ بمسہ و جلدہ بلمسہ فسلسل جیدہ خلت یدہ ہ
و سیق ظحب وحد ہ فرو دجھنم بکرب و شدتہ نظل یعذب فی حجیم و یسقی شربتہ من حمیم تشوی و جھُہ و تستلخ جلدہ و تضربہ زبینتہ لمقمع من حدید و یعور جلدہ بعد نضجہ کجلد جدید یستغیث فتعرض عنہ خزنتہ جھنم و یستصرخ یلبث حُقبتہ یندم نعوذ بربّ قدیر من شرکل مضیر و نسلہ عفو من رضی عنہ و مغفرتہ من قبلبہ ہ
نھوولی مسلتی و منجح طلبتی فمن نحرح عن تعذیب ربہ حعل فی جنتہ بعزتہ و خلدنی فصور مشیدتہ م ملک بحور عین و حفدتہ و طیف علیہ بللوا رسکن خطیرتہ تدس و تقلب فی لعیم و سقی من تسنیم و شرب من عین سلسبیل و مزج لہ بزنجبیل مختم یمسک م عبیر مستدیم لِلمک مستشعر للسرو ریشرب من خمور فی روض مغدق لیس یصدع م شربہ ولیس ینڑف لبہ ھذہ منزلہ من فشی ربہ وحذر نفسہ معصیہ و تلک عقبوبتہ من حجد مشیتہ و سولت لہ نفسہ معصیتہ فھوقول تصل و حکم عدل و خیر قصص قص و وعظ بہ نض تنزیل من حکیم حمید نزل بہ روح قدس مبین علی قلب نبی مھتدرشید صلت علیہ رسل سفرتہ مکرمون بررتہ عذت برب علیم رحیم کریم من شرکل عدولعین جیم فلیتضرع متضرعکم و تھل مبتھلکم ولیستغفر کل مربوب منکم لی ولکم وحسبی ربی وحدُہُ ہ
اردو ترجمہ:
=======================
حمد کر تا ہوں میں اس کی جس کا احسان عظیم ہے اس کی نعمت وسیع و کامل ہے اور اس کے غضب پر سبقت رکھتی ہے اس کی حجت پہنچ چکی ہے اور اس کا فیصلہ مبنی بر عدل ہے ۔
اس کی حمد اس طرح کرتا ہوں جس طرح اس کی ربوبیت کا اقرار کرنے والا اس کی عبودیت میں فروتنی کرنے والا خطاؤں سے پرہیز کرنے والا اس کی توحید کا اعتراف کرنے والا اور اس کے قہر سے پناہ مانگنے والا کرتا ہے۔
اپنے رب سے مغفرت اور نجات کا امیدوار ہوں اس روز جب کہ ہر شخص اپنی اولاد اور عزیزوں سے بے پرواہ ہو گا ہم اس سے مدد و ہدایت چاہتے ہیں میں اس بندہ خالص کی طرح گواہی دیتا ہوں جو اس کے وجود کا یقین رکھتا ہو اس کے ملک میں کوبھی اس کا شریک اور اس کی کائنات میں کوئی اس کا ولی یا حصہ دار نہیں اس کی شان اس سے ارفع و اعلی ہے کہ اس کا کوئی مشیر وزیر مددگار معین یا نظیر ہو۔
وہ سب کا حال جانتا ہے اور عیب پوشی کرتا ہے وہ باطن کی حالت سے واقف ہے اس کی بادشاہت سب پر غالب ہے ۔ اگر گناہ کیا گیا تو وہ معاف کر دیتا ہے اور عدل کے ساتھ حکم دیتا ہے۔ وہ فضل و کرم کرتا ہے نہ اس کو کبھی زوال آیا نہ آۓ گا اور کوئی اس کی مثل نہیں وہ ہر شۓ کے پہلے سے پرودگار ہے وہ اپنی ہی عزت و بزرگی سے غالب ہے اور اپنی قوت سے ہر شے پر ممکن ہے اپنی عالی مرتبی سے مقدس ہے اپنی رفعت کی وجہ اس میں کبر یائی ہے ۔ نہ آنکھ اس کو دیکھ سکتی ہے نہ نظر اس کا احاطہ کر سکتی ہے وہ قوی برتر بصیر ہر بات کا سننے والا اور مہربان و رحیم ہے ۔ جس شخص نے بھی اس کا وصف کرنا چاہاعاجر ہوگیا (نہ کر سکا)۔ جس نے (اپنے فہم میں) اس کو پہچانا اس نے خطا کی وہ باوجود نزدیک ہونے کے دور ہے۔ اور دور ہونے کے باوجود قریب ہے جو اس سے دعا کرتا ہے وہ قبول کرتا ہے۔ اور روزی دیتا ہے اور محبت کرتا ہے وہ صاحب لطف خفی ہے اس کی گرفت قوی ہے او عنایت بہت بڑی ہے اس کی رحمت وسیع ہے اس کا عذاب دردناک ہے اس کی رحمت جنت ہے جو وسیع اور حیرت انگیز ہے اس کا عذاب دوزخ ہے جو مہلک اور پھلا ہوا ہے۔
گواہی دیتا ہوں میں کہ محمدۖ اس کے رسول بندہ صفی نبی محبوب دوست اور برگزیدہ ہیں ان کو ایسے وقت مبعوث بہ رسالت کیا جبکہ زمانہ نبی سے خالی تھا اور کفر کا دور دورہ تھا وہ اس کے بندوں پر رحمت ہیں مزید براں اپنی بنوت کو ان پر ختم اور اپنی حجت کو مضبوط کر دیا۔ پس انہوں نے وعظ فرمایا اور نصیحت کی اور حکم خدا بندوں کو پہنچایا اور ہر طرح کی کوشش کی وہ پر مومن پر مہربان ہیں وہ رحیم سخی اور اس کے پسندیدہ اور پاکیزہ ولی ہیں ان پر خدا کی جانب سے رحمت و سلام برکت وعظمت و اکرام ہو جو بخشنے والا قریب اور دعا قبول کرنے والا ہے ۔
اے حاضرین مجلس میں تمہیں تمہارے پروردگار کا حکم سناتا ہوں جو مجھے پہونچا ہے اور وصیت کرتا ہوں اورتمہیں تمہارے پغیمبر کی سنت یاد دلاتا ہوں- تمھیں چاہیے کہ خدا سے ایسا ڈرو کہ آنکھوں سے آنسو جاری ہو جائیں اور ایسی پرہیزگاری اختیار کرو کہ جو تم کو نجات دلاۓ قبل اس کے آزمائش کا دن آ جاۓ اور تم پریشانی میں گم ہو جاؤ اس روز وہی شخص دستگار ہو گا جس کے ثواب کا پلہ بھاری اور گناہوں کا پلہ ہلکا ہوگا تم کو چاہیۓ کہ جب بھی اس سے دعا کرو تو بہت ہی عاجزی اور گڑگڑا کے توبہ اور خوشامد اور ذلت کے ساتھ کرو اور دل سے گناہوں کا خیال دور کر کے ندامت کے ساتھ خدا کی طرف رجوع ہو۔
تم کو چاہیے کہ بیماری سے قبل صحت کو اور بڑھاپے سے پہلے جوانی کو فقر سے پہلے فراغ بالی کو اور سفر سے پہلے حضر کو اور کام میں مشغول ہونے سے پہلے فراغت کو غنیمت جانو ایسا نہ ہو کہ پیری آ جاۓ اور تم سب کی نظروں میں ذلیل و خوار ہو جاؤ یا مرض حاوی ہو جاۓ اور طبیب رنج میں مبتلا کرے اور احباب روگردانی کریں عمر منقطع ہو جاۓ اور عقل میں فتور آ جآۓ
پھر کہا جاتا ہے کہ بخار کی شدت سے حالت خراب ہو گئی اور جسم لاغر ہو گیا پھر جان کنی کی سختی ہوتی ہے اور قریب و بعید کا ہر اس کے پاس آتا ہے اور اس کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جاتی ہیں پتلیاں پھر جاتی ہیں پیشانی پر پسینہ آتا ہے ناک ٹیڑھی ہو جاتی ہے اور روح قبض ہو جاتی ہے اس کی زوجہ رونے پیٹنے لگتی ہے قبر کھودی جاتی ہے اور اس کے بچے یتیم ہو جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ (یعنی ساتھی) متفرق ہو جاتے ہیں۔ اعضا شکستہ ہو جاتے ہیں اور بینائی و سماعت جاتی رھتی ہے پھر اس کے سیدھا الٹا دیتے ہیں اور لباس اتار کر غسل دیا جاتا ہے اور کپڑے سے جسم پونچھتے ہیں اور خشک کر کے اس پر چادر ڈال دی جاتی ہے اور ایک بچھا دی جاتی ہے اور کفن لایا جاتا ہے اور عمامہ باندہ کر رخصت کر دیتے ہیں اور پھر جنازہ اٹھایا جاتا ہے اور بغیر سجدہ و تعفیر کے صرف تکبیر کے ساتھ اس پر نماز پڑھی ہی جاتی ہے آراستہ طلا کر اور مضبوط محلوں سے نفیس فرش والے کمروں سے لا کر اس کو تنگ لحد میں ڈال دیتے ہیں او رتہ بہ تہ اینٹوں سے قبر بنا کر پتھر سے پاٹ کر اس پر مٹی ڈال دی جاتی ہے اور ڈھیلوں سے پر کر دی جاتی ہے ۔ میت پر وحشت چھا جاتی ہے مگر کسی کو معلوم نہیں ہوتا۔ دوست و عزیز اس کو چھوڑ کر پلٹ جاتے ہیں اور سب بدل جاتے ہیں اور مردہ قبر پر کیڑے دوڑتے پھرتے ہیں اس کی ناک سے پیپ بہنے لگتی ہے اور اس کا گوشت خاک ہونے لگتا ہے اس کا خون دونوں پہلوں میں خشک ہو جاتا ہے اور ہڈیاں بوسیدہ ہو کر مٹی ہونے لگتی ہیں وہ روز قیامت تک اسی طرح رہتا ہے یہاں تک کہ خدا پھر اس کو زندہ کر کے قبر سے اٹھاتا ہے۔
جب صور پھونکا جاۓ گا تو وہ قبر سے اٹھے گا اور میدان حشر و نشر میں بلایا جاۓ گا اور اس وقت اہل قبور زندہ ہوں گے اور قبر سے نکالے جائیں گے اور ان کے سینہ کے راز ظاھر کیۓ جائیں گے اور پر نبی صدیق و شہید حاضر کیا جاۓ گا اور فیصلہ کے لیۓ رب قدیر جو اپنے بندوں کے حالات سے آگاہ ہے جدا جدا کھڑا کرے گا۔ پھر بہت سی آوازیں اس کو پریشانی میں ڈال دیں گی اور خوف و حسرت سے وہ لاغر ہو جاۓ گا اور اس بادشاہ عظیم کے سامنے جو پر چھوٹے اور بڑے گناہ کو جانتا ہے ڈرتا ہوا جاضر ہو گا اس وقت گناہوں کی شرم سے اس قدر پسینہ بہے گا کہ منہ تک آ جاۓ گا اور اس کو اس سے قلق ہو گا۔ وہ بہت کچھ آہ و فریاد کے گا مگر کوئی شنوائی نہ ہو گی اس اور اس کے سب گناہ ظاھر کر دیۓ جائیں گے اور اس کا نامہء اعمال پیش کیا جاۓ گا ۔ پش وہ اپنے اعمال بد کو دیکھے گا اور اس کی بدنظری کی اور ہاتھ بیجا مارنے کی اور پاؤں (برے کام کے لیۓ) جانے کی اور شرم گاہ بدکاری کی اور جلد مس کرنے کی گواہی دیں گے ۔ پس اس کی گردن میں زنجیر ڈال دی جاۓ گی اور مشکیں باندھ دی جائیں گی۔
پھر کھینچ کر جہنم میں ڈال دیا جاۓ گا اور وہ روتا پیٹتا داخل جہنم ہو گا ۔ جہاں اس پر سخت عذاب کیا جاۓ گا ۔ جہنم کا کھولتا ہوا پانی اس کو پینے کو ملے گاجس سے اس کا منہ جل جاۓ گا۔ اس کھال نکل جاۓ گی۔ فرشتہ آہنی گرزوں سے اس کو ماریں گے اور کھال اڑ جانے کے بعد نئ کھال پھر پیدا ہوگی وہ بہت کچھ اہ و فریاد کرے گا مگر خزانہ جہنم کے فرشتے اس کی طرف سے منہ پھیر لیں گے ۔ اس طرح ایک مدت دراز تک وہ عذاب میں مبتلا اور نادم رہے گا اور استغاثہ کرتا رہے گا۔
میں پروردگار قدیر سے پناہ مانگتا ہوں کہ وہ مجھے پر مضر شۓ کے شر سے محفوظ رکھے اور میں اس سے ایسی معافی کا خواستگار ہوں جیسے اس نے کسی شخص سے راضی ہو کر اس کو عطا کی ہو اور ایسی مغفرت چاہتا ہوں جو اس نے قبول فرمائی ہو۔
پس وہی میری خواہش پوری کرنے والا اور مطلب کا بر لانے والا ہے جو شخص مستحق عذاب نہیں ہے وہ بہشت کے مضبوط محلوں میں ہمیشہ رہے گا اور حورعین و خادم اس کی ملک ہوں گے جام ہاۓ کوثر سے سیراب ہو گا اور خطیرہء قدس میں مقیم ہو گا۔ نعمت ہاۓ بہشت میں متصرف رہے گا اور نہر تسنیم کا پانی پیۓ گا اور چشمہ سلسبیل سے جس میں سونٹہ ملی ہوئی ہے اور مشک و عنبر کی مہر لگی ہوئی ہے سیراب ہو گا اور وہاں کا دائمی مالک ہوگا وہ معطر شراب پیۓ گا مگر اس سے خمار ہو گا اور نہ حواس میں فتور یہ منزلت اس شخص کی ہے جو خدا سے ڈرتا اور گناہوں سے تچتا ہے اور وہ عذاب اس شخص کے لیۓ ہے جو اپنے خالق کی نافرمانی کرتا اور خواہشات نفسانی سے گناہوں کا مرتکب ہوتا ہے پس یہی قول فصیل اور عادلانہ حکم ہے اور بہترین قصہ و نصحت ہے جس کی صراحت خداوند حکیم و حمید نے اس کتاب میں فرمائی ہے جو روح القدس نے ہدایت یافتہ راست باز پیغمبر کے قلب پر نازل کیا میں پروردگار علیم و رحیم و کریم سے پناہ مانگتا ہوں کہ وہ مجھ کو ہر دشمن لعین و رجیم کے شر سے بچاۓ پس اس کی بارگاہ میں عاجزی کرنے والوں کو چاہیۓ کہ عاجزی کریں اور دعا کرنے والے دعا کریں اور تم میں سے ہر شخص میرے اور اپنے لیۓ استغفار کرے میرا پروردگار تنہا میرے لیے بس ہے۔
(شرح نہج البلاغہ جلد 4)
نوٹ: - یہ خطبہ ان کتب میں بھی مرقوم ہے جمع الجوامع(سیوطی) کفایت الطالب ۔ محمد بن مسلم شافعی ، اس کے رجال میں ابولحسن الخلال ۔ احمد بن محمد بن ثابت بن بندار، جری بن کلب وغیرہ ہیں۔ 437، سے 634 تک یہ خطبہ جامعہ دمشق کے درمیان ادبیہ عربیہ میں شریک تھا۔
مولا علی ع کا خطبہ بغیر الف
(خطبہ مونقہ)

10/12/2024

my Telenor app answers....
10 December 2024

1: liaqat Ali khan

2: Allama Iqbal

3: saptha sindhu

4: Teri yaad

5: saadat Hasan manto

09/12/2024

Here Is 5 Telenor Quiz Today Answer |9 December 2024, You Can Answer Of my Telenor quiz today answer.

Question 1: What was Syed Ahmed Khan’s ideology?
Two Nation Theory
Yahya Khan
Pervez Ilahi
Haroon Shahid
Answer: Two Nation Theory

Question 2: Who proposed the name Pakistan?
Quaid e Azam
Allama Iqbal
Ch Rehmat Ali
Molana Shokat Ali
Answer: Ch Rehmat Ali

Question 3: The current territory of Pakistan was initially known as?
East Pakistan
West Pakistan
Bangladesh
Punjab
Answer: West Pakistan

Question 4: East Pakistan’s separation took place in which year?
1890
1985
1999
1971
Answer: 1971

Question 5: When did Pakistan become a nuclear state?
1998
1870
1999
2001
Answer: 1998

Address

Sahiwal
57000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Noor-ul-ain نورالعين posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category