Islamic world

Islamic world Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Islamic world, Grocers, sargodha, Sargodha.

30/05/2023

*تلاوت قرآن تفسیر کے ساتھ سبق 1 (پارہ 1 سورہ البقرہ آیت 1-3)*🔹

*أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم*

*آیت نمبر 1️⃣*

*الٓم*

*تفسیر : کچھ سورتوں کے شروع میں جو حروف آئے ہیں انھیں مقطعات کہا جاتا ہے، کیونکہ یہ الگ الگ کر کے پڑھے جاتے ہیں، ان کا معنی تو صاف ظاہر ہے کہ یہ حروف تہجی کے نام ہیں۔ عموماً یہ حروف جہاں بھی آئے ہیں ان کے بعد قرآن مجید، کتاب یا وحی کا ذکر آیا ہے۔ان کے معنی صرف اللہ ہی کو معلوم ہیں*

*آیت نمبر 2️⃣*

*ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَيْبَ ۛ فِيْهِ ۛ ھُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ*

*ترجمہ: یہ کتاب، اس میں کوئی شک نہیں، بچنے والوں کے لیے سرا سر ہدایت ہے۔*

*تفسیر :➊ {لَا رَيْبَ فِيْهِ:} یعنی یہ وہ کتاب ہے جس میں شک والی کوئی بات ہی نہیں، اس کی ہر بات یقینی ہے، انسان کا علم چونکہ ناقص ہے، اس لیے اس کی ہر بات یقینی نہیں ہو سکتی۔ علاوہ ازیں اس کتاب کے اللہ کی طرف سے نازل ہونے میں بھی کوئی شک نہیں، فرمایا : [ تَنْزِيْلُ الْكِتٰبِ لَا رَيْبَ فِيْهِ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِيْنَ ] [ السجدۃ : ۲ ] ’’اس کتاب کا نازل کرنا جس میں کوئی شک نہیں جہانوں کے رب کی طرف سے ہے۔‘‘ اگر کسی کو اس کے اللہ کی طرف سے نازل ہونے میں شک ہو تو اس کا علاج اسی سورۂ بقرہ کی آیت (۲۳) میں بیان فرمایا گیا ہے۔*

*{هُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ} ہدایت کا ایک معنی راستہ دکھانا ہے، اس لحاظ سے تو قرآن تمام لوگوں کے لیے ہدایت ہے۔ « هُدًى لِّلنَّاسِ» [ آل عمران : ۴ ] ’’(یہ) تمام لوگوں کے لیے ہدایت ہے۔‘‘ دوسرا معنی منزل تک پہنچا دینا ہے۔ (دیکھیے القصص : ۵۶) اس لحاظ سے یہ صرف متقین کے لیے ہدایت ہے، کیونکہ منزل پر وہی پہنچتا ہے جو رہبر کے کہنے پر چلتا ہے، شفا اسی مریض کو ہوتی ہے جو نقصان دہ چیزوں سے پرہیز کرتا ہے۔ متقی کا لفظ {’’ وِقَايَةٌ ‘‘} سے مشتق ہے، جس کا معنی بچاؤ اور حفاظت ہے۔ شرع میں متقی وہ ہے جو ہر ایسی چیز سے اپنے آپ کو باز رکھے جس کے کرنے یا چھوڑنے سے خطرہ ہو کہ وہ اللہ کے عذاب کا مستحق ہو سکتا ہے۔*

*آیت نمبر 3️⃣*

*الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِالْغَيْبِ وَ يُـقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ يُنْفِقُوْنَ*

*ترجمہ: وہ لوگ جو غیب پر ایمان لاتے اور نماز قائم کرتے اور اس میں سے، جو ہم نے انھیں دیا ہے، خرچ کرتے ہیں۔*

*تفسیر: { يُؤْمِنُوْنَ بِالْغَيْبِ”بِالْغَيْبِ“} سے مراد وہ حقائق ہیں جو انسان کے حواس اور عقل کی رسائی سے باہر ہیں۔ حدیث جبریل، جس کے راوی امیر المومنین عمر رضی اللہ عنہ ہیں، اس میں رسول اللہ ﷺ نے ایمان کی تعریف یہ بیان فرمائی کہ آدمی اللہ تعالیٰ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر، یوم آخرت اور اچھی یا بری تقدیر پر ایمان لائے۔ [ مسلم : ۸ ] یہ سب چیزیں غیب میں شامل ہیں، کیونکہ انھیں دیکھے بغیر ان پر ایمان رکھا جاتا ہے۔ قرآن کی ہدایت سے فیض یاب ہونے والے وہی متقی لوگ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے بیان پر اعتبار کرتے ہوئے غیب پر ایمان رکھتے ہیں، اپنے مشاہدے یا اپنی عقل سے معلوم ہونے کا مطالبہ نہیں کرتے، غیب کے منکروں کو قرآن سے کچھ حاصل نہیں، جیسے اندھے کو چراغ کا کوئی فائدہ نہیں۔*

*➋ { وَ يُقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ:} قرآن مجید سے ہدایت حاصل کرنے کے لیے غیب پر ایمان کے ساتھ عملاً اطاعت بھی ضروری ہے، اس کی پہلی اور دائمی علامت بلاناغہ نماز ہے، پانچ وقت اذان سن کر نماز پڑھنے یا نہ پڑھنے سے اطاعت کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ ہو جاتا ہے، پھر جو شخص اطاعت پر تیار ہی نہ ہو اسے ہدایت کیسے ہو؟ نماز قائم کرنے سے مراد رسول اللہ ﷺ کی نماز کی طرح نماز ادا کرنا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’نماز اس طرح پڑھو جیسے تم نے مجھے نماز پڑھتے دیکھا ہے۔‘‘ [ صحیح بخاری حدیث نمبر 628]*
*ارکان نماز کو اعتدال اور اطمینان کے ساتھ ادا کرنا ضروری ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اطمینان سے ارکان نماز ادا نہ کرنے والے آدمی سے فرمایا تھا : ’’دوبارہ نماز پڑھو، کیونکہ تم نے نماز پڑھی ہی نہیں۔‘‘ [ صحیح بخاری حدیث نمبر 757 ]*

*جماعت کا اہتمام بھی نماز قائم کرنے میں شامل ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’کوئی تین آدمی نہیں جو کسی بستی میں ہوں یا بادیہ میں، جن میں نماز قائم نہ کی جاتی ہو مگر شیطان ان پر غالب آ چکا ہوتا ہے۔‘‘[سنن ابو داؤد حدیث نمبر 574]*

Address

Sargodha
Sargodha
40010

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Islamic world posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category