07/12/2025
حضرت شمعون علیہ السلام کا واقعہ (احادیث اور تفاسیر کی روشنی میں)
اسلامی روایات اور تفسیرِ ابنِ کثیر کے مطابق، حضرت شمعون علیہ السلام (جنہیں بائبل میں سیمسن/Samson کہا جاتا ہے) بنی اسرائیل کے ایک نہایت عابد، زاہد اور طاقتور شخص تھے۔ ان کا ذکر قرآن مجید میں نام کے ساتھ نہیں آیا، لیکن سورۃ القدر کے شانِ نزول (نازل ہونے کی وجہ) میں ان کا واقعہ بہت اہمیت کا حامل ہے۔
یہاں ان کی مکمل کہانی بیان کی گئی ہے:
1. حضرت شمعون (ع) کی عبادت اور طاقت
ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے صحابہ کرام کے سامنے بنی اسرائیل کے ایک شخص (حضرت شمعون) کا ذکر فرمایا جنہوں نے 1000 مہینے (تقریباً 83 سال اور 4 ماہ) تک اللہ کے راستے میں جہاد کیا اور عبادت کی۔
ان کا معمول: وہ دن بھر روزہ رکھتے اور دشمنوں سے جہاد کرتے، اور پوری رات اللہ کی عبادت میں گزار دیتے۔
جسمانی طاقت: اللہ نے انہیں بے پناہ طاقت عطا کی تھی۔ وہ اکیلے ہی دشمن کے پورے لشکر پر بھاری پڑتے تھے۔ روایات میں آتا ہے کہ ان کے پاس کوئی روایتی تلوار نہیں تھی بلکہ وہ اونٹ کے جبڑے کی ہڈی سے دشمنوں کا مقابلہ کرتے اور انہیں شکست دے دیتے۔
2. دشمنوں کی سازش اور بیوی کی غداری
اس وقت کے کافر بادشاہ اور لوگ حضرت شمعون (ع) کی طاقت سے عاجز آ چکے تھے کیونکہ وہ انہیں میدانِ جنگ میں ہرانے سے قاصر تھے۔ جب وہ زور زبردستی نہیں جیت سکے تو انہوں نے دھوکے کا منصوبہ بنایا۔
بیوی کو لالچ: دشمنوں نے حضرت شمعون کی بیوی سے رابطہ کیا اور اسے ڈھیر سارا مال و دولت دینے کا وعدہ کیا، اس شرط پر کہ وہ اپنے شوہر کو قید کرنے یا قتل کروانے میں مدد کرے۔
پہلی کوشش: بیوی نے انہیں سوتے ہوئے مضبوط رسیوں سے باندھ دیا۔ جب حضرت شمعون جاگے تو انہوں نے معمولی سی حرکت کی اور رسیاں ٹوٹ گئیں۔ انہوں نے بیوی سے پوچھا تو اس نے بہانہ بنایا کہ "میں صرف آپ کی طاقت آزما رہی تھی۔"
دوسری کوشش: پھر اس نے لوہے کی زنجیروں سے باندھا، لیکن حضرت شمعون نے وہ بھی آسانی سے توڑ دیں۔
3. راز کا کھلن
بیوی کے بار بار پوچھنے اور محبت کا واسطہ دینے پر، حضرت شمعون (ع) نے اپنا راز بتا دیا۔
راز: انہوں نے بتایا کہ، "میں اللہ کا 'نذیر' (اللہ کے لیے وقف بندہ) ہوں اور میری طاقت کا راز میرے بالوں میں ہے۔ اگر مجھے میرے ہی بالوں سے باندھ دیا جائے تو میں بے بس ہو جاؤں گا۔"
4. قید اور اذیت
جب حضرت شمعون گہری نیند سو گئے، تو ان کی بیوی نے ان کے لمبے بالوں کو ہی رسیوں کی طرح استعمال کرکے انہیں باندھ دیا۔ جب وہ جاگے تو واقعی خود کو چھڑا نہ سکے کیونکہ یہ اللہ کی طرف سے آزمائش تھی۔
دشمنوں نے انہیں پکڑ لیا۔
ان کی آنکھیں نکال دی گئیں اور کان کاٹ دیے گئے۔
انہیں بادشاہ کے محل میں ایک بڑے ستون کے ساتھ باندھ کر کھڑا کر دیا گیا تاکہ لوگ ان کا تماشا بنائیں۔
5. آخری دعا اور انجام
اس بے بسی کی حالت میں حضرت شمعون (ع) نے اللہ سے سچے دل سے دعا مانگی:
"یا اللہ! مجھے صرف ایک بار میری طاقت واپس دے دے تاکہ میں ان دشمنوں سے اپنا اور تیرے دین کا بدلہ لے سکوں۔"
اللہ نے ان کی دعا قبول فرمائی۔ انہیں محسوس ہوا کہ ان کے جسم میں طاقت لوٹ آئی ہے۔ انہوں نے محل کے ان دو بڑے ستونوں کو تھاما جن پر پوری عمارت کھڑی تھی، اور "یا اللہ" کہہ کر انہیں زور سے ہلا دیا۔
نتیجہ: پورا محل گر گیا۔ بادشاہ، اس کی فوج، اور وہ غدار بیوی—سب کے سب ملبے کے نیچے دب کر ہلاک ہو گئے، اور اللہ نے حضرت شمعون (ع) کو نجات عطا فرمائی۔
امتِ محمدی ﷺ اور لیلۃ القدر کا تحفہ
جب رسول اللہ ﷺ نے یہ واقعہ صحابہ کرام کو سنایا کہ حضرت شمعون نے 1000 مہینے تک مسلسل جہاد اور عبادت کی، تو صحابہ کرام بہت غمگین ہوئے۔
انہوں نے سوچا کہ ہماری عمریں تو بہت چھوٹی ہیں (60 س 70 سال)، ہم اتنی عبادت کیسے کر سکیں گے جو حضرت شمعون کے برابر ہو سکے؟ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرائیل (ع) کے ذریعے سورۃ القدر نازل فرمائی اور خوشخبری دی:
لَیۡلَۃُ الۡقَدۡرِ ۬ۙ خَیۡرٌ مِّنۡ اَلۡفِ شَہۡر
(ترجمہ: "شبِ قدر (عبادت کے لیے) ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔")
اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر امتِ محمدی ﷺ کا کوئی شخص صرف ایک رات (لیلۃ القدر) میں ایمان اور اخلاص کے ساتھ عبادت کر لے، تو اسے حضرت شمعون کی 1000 مہینوں (83 سال) کی مسلسل عبادت اور جہاد سے بھی زیادہ ثواب ملے گا۔
خلاصہ:
یہ واقعہ ہمیں اللہ پر توکل، صبر اور اللہ کی طرف سے امتِ محمدی پر خاص رحمت (شبِ قدر) کی یاد دلاتا ہے۔
کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں آپ کو سورۃ القدر کی مزید فضیلت یا کسی اور نبی کا قصہ سناؤں؟