12/01/2026
*ٹوکریاں بیچنے والا نوجوان:*
حضرت ابوعبداللہ بلخی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’ بنی اسرائیل میں ایک نوجوان تھا جس سے زیادہ حسن و جمال والا کوئی نوجوان کبھی دیکھا نہ گیا ،وہ ٹوکر یاں بیچا کرتا تھا ۔ ایک دن یوں ہواکہ وہ اپنی ٹوکریاں لے کر(انہیں بیچنے کے لئے) گھوم رہا تھا کہ بنی اسرائیل کے ایک بادشاہ کے محل سے ایک عورت نکلی ،جب اس نے نوجوان کو دیکھا تو جلدی سے واپس لوٹ گئی اور بادشاہ کی شہزادی سے کہا :میں نے گھر سے ایک نوجوان کو ٹوکریاں بیچتے ہوئے دیکھا ( وہ اتنا خوبصورت ہے کہ)میں نے اس سے زیادہ حسین و جمیل نوجوان کبھی نہیں دیکھا ۔( یہ سن کر) شہزادی نے کہا: اسے لے آؤ۔ وہ عورت ا س کے پاس گئی اور کہا: اے نوجوان!اندر آ جاؤ، ہم تم سے خریداری کریں گے ۔نوجوان (محل میں ) داخل ہو ا تو عورت نے اس کے پیچھے دروازہ بند کر دیا ،پھر ا س سے کہا: داخل ہو جاؤ۔ وہ داخل ہوا تو اس نے پیچھے سے دوسرا دروازہ بند کر دیا، پھر وہ عورت نوجوان کو شہزادی کے سامنے لے گئی جس نے اپنے چہرے سے نقاب اٹھایا ہوا تھا اور اس کا سینہ بھی عُریاں تھا۔ (جب نوجوان نے شہزادی کو اس حالت میں دیکھا) تواس نے شہزادی سے کہا: اللہ تعالیٰ تجھے معاف فرمائے، تم (اپنا چہرہ اور سینہ) چھپا لو۔ شہزادی نے کہا: ہم نے تمہیں نصیحت کرنے کے لئے نہیں بلایا بلکہ محض اس مقصد کے لئے بلایا ہے( کہ ہم تجھ سے اپنی شہوت کی تسکین کرنا چاہتے ہیں۔) نوجوان نے اس سے کہا : تو (اس معاملے میں ) اللہ تعالیٰ سے ڈر۔ شہزادی نے کہا: میری مراد پوری کرنے میں اگر تو نے میری بات نہ مانی تو میں بادشاہ کو بتا دوں گی کہ تم میرے پاس صرف میرے نفس پر غالب آنے کے لئے آئے ہو۔ نوجوان نے پھر انکار کیا اور اسے نصیحت کی ، جب ا س نے (نصیحت ماننے سے) انکار کر دیا تو نوجوان نے کہا : میرے لئے وضو کا انتظام کر دو۔ شہزادی نے کہا : کیا تو مجھے دھوکہ دینا چاہتا ہے؟ اے خادمہ: اس کے لئے محل کی چھت پر وضو کا برتن رکھ دو تا کہ یہ فرار نہ ہوسکے ۔ محل کی چھت زمین سے تقریباً 40 گز اونچی تھی، جب وہ نوجوان چھت پر پہنچ گیا تو اس نے (دعا مانگتے ہوئے ) عرض کی:اے اللہ! عَزَّوَجَلَّ، مجھے تیری نافرمانی کی طرف بلایا جا رہا ہے اور میں اپنے نفس سے صبر کرنے کو اختیار کر رہا ہوں ، (مجھے یہ منظور ہے کہ) اپنے آپ کو اس محل سے نیچے گرا دو ں اور گناہ نہ کروں ،پھ