Bhatti overseas group

Bhatti overseas group civil engineering

26/08/2025

🚦 ٹریفک قوانین اور جرمانے 🚦

ہیلمٹ نہ پہننے پر جرمانہ ➝ 2000 روپے

غلط جگہ پارکنگ ➝ 2000 روپے

ممنوعہ جگہ گاڑی داخل کرنے پر ➝ 500 روپے

بائیک پر تین افراد ➝ 2000 روپے

پلاسٹک کا ہیلمٹ ➝ 5000 روپے

ٹریفک سگنلز کی خلاف ورزی ➝ 1000 روپے

ون وے کی خلاف ورزی ➝ 2000 روپے

بغیر ڈرائیونگ لائسنس ➝ 2000 روپے

🔎 اب ذرا دوسرا پہلو دیکھیے:

سڑکوں پر بے شمار گڑھے کھڈے، کوئی ذمہ دار نہیں۔

گلیوں میں سیوریج اور بارش کا پانی، کوئی ذمہ دار نہیں۔

مین ہولز کے ڈھکن غائب، روزانہ حادثات مگر ذمہ دار کوئی نہیں۔

سرکاری ہسپتالوں میں دوائیاں نہیں، کوئی ذمہ دار نہیں۔

جگہ جگہ ناکام سگنل لائٹس، کوئی ذمہ دار نہیں۔

سڑک کھود دی جاتی ہے، مرمت نہیں ہوتی، کوئی ذمہ دار نہیں۔

فٹ پاتھ پر تجاوزات، کوئی ذمہ دار نہیں۔

سڑکوں پر کچرے کے ڈھیر، کوئی ذمہ دار نہیں۔

رات کے وقت اندھیرا، روشنی کا کوئی انتظام نہیں، کوئی ذمہ دار نہیں۔

🤔 نتیجہ:

ایسا لگتا ہے کہ عوام صرف مجرم ہیں

عوام ٹیکس بھی دیں،

عوام جرمانے بھی دیں،

عوام تکلیف بھی سہیں۔

لیکن…
انتظامیہ اور حکومت کی کوئی ذمہ داری نہیں؟
ان پر کوئی قانون لاگو نہیں؟
کیا انہیں جواب دہ نہیں ہونا چاہیے؟

✍️ شہری فرائض ادا کرتے ہیں، مگر شہری حقوق کا محافظ کون ہوگا؟

26/08/2025

💚السلام علیکم
ورحمةالله وبرکاته

عافیت کے بڑے وسیع معنی ہیں
جن میں صحت و تندرستی، قلبی سُکون رزق میں خیر و برکت دنیاوی، دینوی اور آخرت کی ہر قسم کی بھلائیاں شامل ہیں.

ارشادِ نبی الکریم صلی الله عليه وسلم ہے:
ھمیشہ اپنے لئے، والدین اور آل و اولاد کیلئے عافیت مانگا کریں.

🤲 رب الکریم اپنی رضا میں ھمارے ظاھری، باطنی تمام گناھوں کی مغفرت فرمائیں
اور اپنے فضل و کرم سے ھم پر رحم نازل فرمائیں۔

ھمیں ایمان سے لبریز‎،
محتاجی سے دور،
عزّت سے بھرپور
عمرِ دراز عطا فرمائیں۔

ھمیں ہر قسم کے غرض سے ، قرض سے ، مرض سے
ذلّت سے ، قلّت سے ، بُری علّت سے
تنگدستی ، رسوائی سے
بیماریوں ، پریشانیوں ، رکاوٹوں سے
آسمانی ، زمینی ، پانی کی مخلوقات کے شرّ سے
جملہ آفات ، ناگہانی موت سے محفوظ رکھیں۔

ھمیں نمازِ پنجگانہ ادا کرنے کی،
نبی الکریم پہ کثرت سے درود و سلام پیش کرنے کی،
قرآن مجید اُردو ترجمے سے پڑھنے، سمجھنے کی،
اور احکاماتِ الہٰی کے مطابق عمل صالح کرنے کی ھدایت عطا فرمائیں۔

*آمین‎ ‎یاربّ العالمين*

کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں جو صرف موبائل کے میموری کارڈ یا کسی چیٹ میں سیو نہیں ہوتیں۔ وہ سیدھا دل کی گہرائیوں میں اتر جاتی...
24/08/2025

کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں جو صرف موبائل کے میموری کارڈ یا کسی چیٹ میں سیو نہیں ہوتیں۔ وہ سیدھا دل کی گہرائیوں میں اتر جاتی ہیں۔ یہ باتیں عام لفظوں یا تصویروں کی نہیں ہوتیں بلکہ جذبات، احساسات اور رشتوں کی خوشبو سے جُڑی ہوتی ہیں۔

وقت گزرنے کے ساتھ موبائل بدل جاتے ہیں، پرانی چیٹس ڈیلیٹ ہو جاتی ہیں، نمبر بلاک یا مس ہو جاتے ہیں، لیکن دل میں سیو ہونے والی باتیں کبھی نہیں مٹتیں۔ وہ لمحے کبھی اچانک مسکراہٹ بن کر چہرے پر آ جاتے ہیں، کبھی تنہائی میں آنکھوں کو بھگو دیتے ہیں۔ یہ باتیں انسان کی یادداشت کا وہ حصہ بن جاتی ہیں جسے کوئی پاس ورڈ، کوئی ہیکر اور کوئی وقت بھی نہیں چرا سکتا۔

لیکن ایک سچ یہ بھی ہے کہ دل میں سیو ہونے والی یہ باتیں صرف اُس دن ختم ہوتی ہیں جب دل کی دھڑکن تھم جاتی ہے۔ اُس دن وہ تمام یادیں، احساسات اور باتیں ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جاتی ہیں۔ تب تک یہ ہمارے اندر دھڑکتے رہتے ہیں، ہمیں جِلاتے بھی ہیں اور ہمیں جینے کی وجہ بھی دیتے ہیں۔

زندگی کی اصل خوبصورتی یہی ہے کہ سب کچھ ڈیجیٹل نہیں ہوتا۔ کچھ یادیں ایسی ہیں جو صرف دل کے فائل فولڈر میں محفوظ ہوتی ہیں، اور انہی کی بدولت ہم انسان کہلاتے ہیں۔

اکثر خاندانوں میں ایسے نمونے موجود ہوتے ہیں جو اپنے خون سے رشتوں کے لیے تو دل میں زہر اور حسد رکھتے ہیں، لیکن غیروں کے آ...
24/08/2025

اکثر خاندانوں میں ایسے نمونے موجود ہوتے ہیں جو اپنے خون سے رشتوں کے لیے تو دل میں زہر اور حسد رکھتے ہیں، لیکن غیروں کے آگے اپنی انا، عزت اور وقار سب کچھ قربان کر کے فخر محسوس کرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اپنے کسی کزن کی کامیابی، اپنے بھائی کی ترقی، یا اپنی بہن کی عزت تک گوارا نہیں ہوتی۔ اپنوں کی خوشی ان کے لیے ایسے ہے جیسے کسی نے ان کے زخم پر نمک چھڑک دیا ہو۔ ان کا بس چلے تو اپنوں کے گھروں کی روشنیاں بجھا دیں اور اپنے دل کی تاریکی میں سکون تلاش کریں۔

حسد ایسا ناسور ہے جو نہ صرف رشتوں کو دیمک کی طرح چاٹتا ہے بلکہ انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔ مگر ان "نمونوں" کو یہ بات کون سمجھائے؟ اپنوں کی خوشی میں خوش ہونے کے بجائے یہ کانوں میں سرگوشیاں کرتے ہیں، باتوں کو توڑ مروڑ کر پھیلاتے ہیں، اور سازشوں کے جال بنتے ہیں۔ لیکن جب کوئی غیر آ کر سامنے کھڑا ہو جائے تو یہی لوگ غلامی کو عبادت سمجھ کر اس کے تلوے چاٹنے لگتے ہیں۔ غیروں کی غلطیاں بھی ان کو ہیرے موتی لگتی ہیں، مگر اپنوں کی نیکیاں بھی ان کی نظروں میں کانٹے بن جاتی ہیں۔

کاش یہ لوگ سمجھ جائیں کہ اپنوں کو نیچا دکھا کر عزت نہیں ملتی، اور غیروں کے آگے جھک کر کوئی رتبہ نہیں بڑھتا۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ اپنوں کے ساتھ مخلص رہا جائے، ان کے دکھ کو اپنا دکھ اور ان کی خوشی کو اپنی خوشی سمجھا جائے۔ مگر افسوس! یہ عقل ہر کسی کے حصے میں نہیں آتی۔ کچھ لوگ زندگی بھر دوسروں کی کامیابیوں سے جلن کی آگ میں جلتے رہتے ہیں اور آخر کار خود ہی راکھ ہو جاتے ہیں۔

یاد رکھنا چاہیے کہ رشتے اللہ کی نعمت ہیں۔ جو ان کی قدر نہیں کرتا، جو اپنوں سے حسد کرتا ہے، وہ دراصل اپنے ہی نصیبوں کو کوستا ہے۔

✍️ رائٹر: حاجی منور عباس بھٹی

إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَانتہائی دکھ اور افسوس کے ساتھ اطلاع دی جاتی ہے کہ سیٹھ نور محمد بھٹہ کے صاحبز...
24/08/2025

إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ

انتہائی دکھ اور افسوس کے ساتھ اطلاع دی جاتی ہے کہ سیٹھ نور محمد بھٹہ کے صاحبزادے، شاہد، امجد اور اطہر کے بھائی، ہمارے عزیز و محترم قمر سہیل بھٹہ اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے ہیں۔

مرحوم نہایت ملنسار، بااخلاق اور نرم دل انسان تھے۔ انہوں نے ہمیشہ خاندان اور احباب کے ساتھ حسنِ سلوک رکھا۔ اُن کی مسکراہٹ، محبت اور خلوص کو سب ہمیشہ یاد رکھیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے، ان کی لغزشوں کو معاف کرے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔

نمازِ جنازہ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا، آپ سب سے درخواست ہے کہ مرحوم کے ایصالِ ثواب کے لیے دعا کریں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ پسماندگان کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ وَعَافِهِ وَاعْفُ عَنْهُ، وَأَكْرِمْ نُزُلَهُ، وَوَسِّعْ مُدْخَلَهُ، وَاغْسِلْهُ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ۔

Address

Alfursan
Dammam

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Bhatti overseas group posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Bhatti overseas group:

Share