08/20/2023
"شفق"
روز ساحل پہ کھڑے ھو کے یہی دیکھا ھے
شام کا پگھلا ھُوا سُرخ سنُہری روغن
روز مٹیالے سے پانی میں گُھل جاتا ھے
روز ساحل پہ کھڑے ھو کے یہی سوچا ھے
میں جو پگھلی ھُوئی رنگین شفق کا روغن
پونچھ لوں ھاتھوں پہ اور چُپکے سے اِک بار کبھی
شام کا پگھلا ھُوا یہ سُرخ سنہری روغن
تیرے گلنار سے رُخساروں پہ چَھپ سے مَل دُوں
"گلزار"
"چاند پکھراج کا" سے انتخاب۔