09/06/2026
عیدِ مباہلہ اہلِ بیت ع کی حقانیت کا روشن ترین اعلان ہے
عیدِ مباہلہ صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ولایتِ علی ع محبتِ اہلِ بیت ع اور حق کی فتح کا جشن ہے۔
تاریخِ اسلام میں بعض دن ایسے ہیں جو صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ حق اور باطل کے درمیان فیصلہ کن معیار بن گئے۔
24 ذوالحجہ کا دن بھی ایسا ہی ایک عظیم دن ہے جسے عیدِ مباہلہ کہا جاتا ہے یہ وہ دن ہے جب اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی حضرت محمد مصطفیٰ ص کے اہلِ بیت ع کی عظمت طہارت اور حقانیت کو قرآنِ مجید میں ہمیشہ کے لیے محفوظ فرما دیا
[نجران کے عیسائیوں کا مدینہ آنا]
ہجرت کے دسویں سال یمن کے علاقے نجران سے تقریباً ساٹھ افراد پر مشتمل ایک عیسائی وفد مدینہ منورہ حاضر ہوا ان میں بڑے بڑے علماء پادری اور مذہبی رہنما شامل تھے ان کا مقصد رسول اللہ ص سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں گفتگو کرنا تھا«
رسول اللہ ص نے انہیں اسلام کی دعوت دی اور فرمایا کہ حضرت عیسیٰ ع اللہ کے برگزیدہ نبی ہیں خدا نہیں ہیں لیکن عیسائی علماء اس بات پر اصرار کرتے رہے کہ چونکہ حضرت عیسیٰ ع بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے اس لیے وہ عام انسان نہیں ہو سکتے«
اس پر رسول اللہ ص نے انہیں سمجھایا کہ اگر بغیر باپ کے پیدا ہونا خدائی کی دلیل ہے تو حضرت آدم ع اس سے بھی زیادہ اس بات کے مستحق ہونے چاہئیں کیونکہ وہ نہ ماں سے پیدا ہوئے نہ باپ سے بلکہ اللہ نے انہیں اپنی قدرت سے پیدا فرمایا
قرآنِ مجید نے اسی حقیقت کو یوں بیان فرمایا:
بے شک اللہ کے نزدیک عیسیٰ کی مثال آدم کی سی ہے انہیں مٹی سے پیدا کیا پھر فرمایا ہو جا تو وہ ہو گئے
(سورۂ آل عمران: 59)
لیکن واضح دلائل کے باوجود وہ اپنی ضد پر قائم رہے۔
[آیتِ مباہلہ کا نزول]
جب بحث طول پکڑ گئی اور حق واضح ہونے کے باوجود عیسائیوں نے انکار کیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ص پر آیتِ مباہلہ نازل فرمائی۔
پھر جو شخص تمہارے پاس علم آ جانے کے بعد بھی تم سے جھگڑا کرے تو کہہ دو آؤ! ہم اپنے بیٹوں کو بلاتے ہیں اور تم اپنے بیٹوں کو ہم اپنی عورتوں کو بلاتے ہیں اور تم اپنی عورتوں کو ہم اپنے نفسوں کو بلاتے ہیں اور تم اپنے نفسوں کو پھر دعا کرتے ہیں اور جھوٹوں پر اللہ کی لعنت قرار دیتے ہیں
(سورۂ آل عمران: 61)
یہ دراصل اللہ کی عدالت میں ایک فیصلہ تھا کہ دونوں فریق حاضر ہوں اور دعا کریں کہ جو جھوٹا ہو اس پر اللہ کا عذاب نازل ہو
[میدانِ مباہلہ کا عظیم منظر]
24 ذوالحجہ کی صبح جب مباہلہ کا وقت آیا تو نجران کے عیسائی بے چینی سے انتظار کر رہے تھے کہ رسول اللہ ص اپنے ساتھ کس قدر بڑی جماعت لے کر آئیں گے۔
لیکن جب رسول اللہ ص تشریف لائے تو منظر ہی کچھ اور تھا
جب رسول اللہ ص میدانِ مباہلہ کی طرف تشریف لے گئے تو آپ ص اپنے ساتھ پوری امت میں سے صرف چار ہستیوں کو لے کر نکلے رسول اللہ ص سب سے آگے تھے آپ ص کے ساتھ امام حسن ع اور امام حسین ع تھے بی بی فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا درمیان میں تھیں اور ان کے پیچھے مولا علی علیہ السلام تھے یہ پانچ مقدس ہستیاں ایسی شان و عظمت کے ساتھ میدانِ مباہلہ میں پہنچیں کہ نجران کے عیسائی علماء ان کے نورانی چہروں کو دیکھ کر لرز اٹھے اور مباہلہ کرنے کی ہمت نہ کر سکے۔
روایات میں آتا ہے کہ رسول اللہ ص نے فرمایا:
جب میں دعا کروں تو تم آمین کہنا
یہ منظر دیکھ کر عیسائی علماء کے چہروں کا رنگ بدل گیا۔
نجران کے سب سے بڑے عالم نے اپنے ساتھیوں سے کہا:
خدا کی قسم! میں ایسے نورانی چہرے دیکھ رہا ہوں کہ اگر یہ اللہ سے دعا کریں تو پہاڑ اپنی جگہ سے ہٹ جائیں اگر تم نے ان سے مباہلہ کیا تو نہ تم باقی رہو گے اور نہ تمہاری نسل باقی رہے گی۔
چنانچہ انہوں نے مباہلہ سے انکار کر دیا اور صلح پر آمادگی ظاہر کر دی۔
یوں مباہلہ کی نوبت ہی نہ آئی کیونکہ مخالف فریق نے حق کی طاقت کو پہچان لیا تھا
رسول اللہ (ص) اس آیت کے مطابق
"ابناءنا" (ہمارے بیٹے) کا مصداق حسنین کریمین علیہما السلام کو۔
"نساءنا" (ہماری عورتیں) کا مصداق حضرت فاطمہ الزہراء سلام اللہ علیہا کو۔
اور
"انفسنا" (ہمارے نفس) کے مصداق کے طور مولا علی علیہ السلام کو لائے۔
یہی وجہ ہے کہ آیتِ مباہلہ کو مولا علی ع کی عظیم ترین فضیلتوں میں شمار کیا جاتا ہے کیونکہ قرآن نے انہیں رسول اللہ ص کے نفس کے عنوان سے یاد کیا۔
واقعۂ مباہلہ صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ایک عظیم پیغام ہے۔
حق کے لیے دلیل اور کردار دونوں ضروری ہیں
اہلِ بیت ع اسلام کا پاکیزہ ترین گھرانہ ہیں
اللہ تعالیٰ نے اہلِ بیت ع کی عظمت کو خود قرآن میں بیان فرمایا
حق کی طاقت تلواروں سے نہیں بلکہ صداقت اور اخلاص سے ظاہر ہوتی ہے۔
اہلِ بیت ع سے محبت درحقیقت رسول اللہ ص سے محبت ہے۔
عیدِ مباہلہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ جب حق کے مقابل باطل کھڑا ہو تو اللہ اپنے برگزیدہ بندوں کے ذریعے حق کو سربلند فرماتا ہے۔
یہ دن اہلِ بیت ع کی محبت ان کی معرفت اور ان کی پیروی کے تجدیدِ عہد کا دن ہے
سلام ہو محمد صو آلِ محمد پر
سلام ہو علی ع فاطمہ س حسن ع اور حسین ع پر
جنہیں اللہ نے میدانِ مباہلہ میں اسلام کی سچائی کی دلیل بنا کر پیش فرمایا
من تشآء فاطمہ 🌸
عیدِ مباہلہ تمام محبانِ محمد و آلِ محمد ص کو بالخصوص تمام علی ع والوں کو دل کی گہرائیوں سے مبارک ہو🌹 😇